کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 96
صرف اتنے روپے زائد منافع لے رہا ہے جیسا کہ مرابحہ میں ہوتا ہے یا اپنی لاگت قیمت پر ہی بیچ رہا ہے جیسا کہ بیع تولیہ میں ہے یا اپنی لاگت سے اتنے روپے کم وصول کررہا ہے جیسا کہ بیع وضعیہ میں ہوتا ہے اور بعد میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس نے غلط بیانی کی ہے تو مشتری کو بیع منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔کیونکہ ان صورتوں میں مشتری فروخت کنندہ پر اعتماد کرکے بیع کرتا ہے، لہذاان کا ہرقسم کی خیانت اور شبہات سے پاک ہونا اور خریدار کو لاگت قیمت کا علم ہونا ضروری ہے جو فروخت کنندہ کی غلط بیانی کی وجہ سے نہیں ہوسکا، اس لیے خریدار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بیع کو ختم کردے۔ تغیر واقع ہونے کی وجہ سے اختیار اس سے مراد یہ ہے کہ مشتری نے ایک ایسی چیز کا سودا کرلیا جو اس نے معاملہ طے پانے سے کافی عرصہ پہلے دیکھی تھی لیکن جب سوداطے پانے کے بعد سامنے آئی تو اس میں تبدیلی آچکی تھی، اب مشتری کو اختیار ہے کہ بیع باقی رکھے یا منسوخ کردے۔کیونکہ تبدیلی پیدا ہونے کے بعد مذکورہ چیز وہ نہیں رہی جس کا مشتری نے خریداری سے قبل مشاہدہ کیا تھا لہذا یہ بیع ختم کرسکتا ہے۔لیکن اگر کوئی قابل ذکر تبدیلی واقع نہ ہوئی ہوتو پھر مشتری کو بیع ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں خیار کی فیس لی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ حق کسی دوسرے کو فروخت کیا جاسکتا ہے۔