کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 94
" أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ، ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا، فَرَدَّهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّهُ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» " ’’ایک شخص نے ایک غلام خریداپھر اس سے(اجرت کےبدلے کام پر لگا کر) فائدہ اٹھایا، بعد میں اس میں عیب پایا اور اسے واپس کردیا۔اس پر فروخت کنندہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے میرے غلام سے فائدہ بھی تواُٹھایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فائدہ نقصان کی ذمہ داری کی بنیاد پر ہے۔‘‘[1] یعنی اس عرصے میں چونکہ غلام کا ذمہ دار مشتری تھا، اگر وہ کسی وجہ سے ہلاک ہوجاتا تو مشتری کا ہی نقصان ہوتا اس لیے اجرت بھی اسی کا حق ہے۔ خیار بصورت اختلاف جب معاملہ طے پانے کے بعد فروخت کنندہ اور مشتری کے درمیان قیمت وغیرہ میں اختلاف پیدا ہوجائے، مثلاً فروخت کنندہ کہے کہ میں نے اس کی قیمت ایک ہزار بتائی تھی اور خریدار کہے نو سو میں سودا طے ہوا تھا اور دونوں میں سے کسی کے پاس دلیل یا گواہ موجود نہ ہوتو فروخت کنندہ کی بات معتبر سمجھی جائے گی اور خریدار کو اختیار ہوگا کہ وہ بیع باقی رکھے یا فسخ کردے۔ "إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة فهو ما يقول رب السلعة أو يتتاركان" ’’جب فروخت کنندہ اور خریدار کا اختلاف ہوجائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو فروخت کنندہ کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع ختم کردیں۔‘‘[2] سنن ابن ماجہ میں ہے: [1] ۔سنن ابن ماجه:باب الخراج بالضمان۔ [2] ۔سنن ابي داؤد:باب اذا اختلف البيعان۔