کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 93
دیا جائے گا۔کیونکہ دھوکہ اسی شخص کے کہنے کی بنا پر ہوا ہے۔ویسے ہی دھوکہ لگ گیا تو بات دوسری ہے لیکن جب اس نے کہا کہ بازار میں یہ دام ہے اور بعد میں بازار میں وہ دام نہیں نکلے تو یہ دھوکہ اس کے کہنے کی وجہ سے ہو لہٰذا دوسرے فریق کو اختیار ہے فتوی بھی اسی کے اوپرہے۔‘‘[1] دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ’’حنفیہ کے پاس اس حدیث کا کوئی جواب نہیں ہے لہٰذا اس باب میں آئمہ ثلاثہ کا مسلک راجح ہے‘‘[2] خیار عیب اگر چیز خریدنے کے بعد اس میں کسی ایسے نقص کا انکشاف ہو جو فروخت کنندہ کے ہاں سے ہی موجود تھا لیکن بیع کے وقت خریدار کے علم میں نہ آسکا تو خریدار کو بیع منسوخ کر کے اپنی رقم واپس لینے کا اختیار ہے، اس کو خیار عیب کہتے ہیں۔نقص سے مراد ایسا عیب ہے جس سے قیمت میں کمی واقع ہو۔ مشتری رضا مندہ ہو تو خیار عیب میں تصفیہ کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس چیز کی نقص کے ساتھ اور بغیرنقص کے قیمت لگائی جائے، دونوں قیمتوں میں جو فرق ہو وہ رقم مشتری کو واپس کردی جائے اور بیع کو قائم رکھا جائے۔ خیار عیب کی غرض و غایت مشتری کو ضرر سے بچانا ہے کیونکہ وہ چیز کو بے عیب سمجھ کر خریدنے پر رضا مند ہوا تھا، نقص کی موجود گی اس کی رضا مندی کے خلاف ہے، اس لیے علمائے دین کے مابین اس کی مشروعیت متفق علیہ ہے۔اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہے: [1] ۔انعام الباري ج 6 ص 228۔ [2] ۔ايضاً ص 304۔