کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 76
قيمت كےمتعلق ہدايات یہ بات تو مسلم ہے کہ بیع اسی صورت ہوگی جب مشتری فروخت کنندہ کو بدلے میں کوئی قیمت اداکرے گا، اس کے بغیر بیع وجود میں نہیں آسکتی تاہم شریعت مطہرہ نے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کےمتعلق بھی ہماری مکمل رہنمائی کی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی بات یہ یادرکھیں کہ معاوضہ کرنسی کی شکل میں ہونا ضروری نہیں بلکہ ہر اس چیز کی بنیاد پر لین دین ہو سکتا ہے جو شریعت کی روسے جائز اور معاشرہ میں بطورمعاوضہ قبول کی جاتی ہو۔جو چیزیں شرعاً جائز نہ ہوں جیسے شراب، مردار اور خنزیر وغیرہ ہے، یا وہ اشیاء جو معاشرہ میں آلہ مبادلہ کی حیثیت سے رائج نہ ہوں، وہ قیمت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ قیمت معلوم ہو قیمت کے بارہ میں دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ فریقین مکمل تفصیلات طے کر کے معاملہ کریں، مثلاً قیمت کیا ہوگی، ادائیگی فوری ہوگی یا تاخیر سے ہوگی تو کتنی مدت بعد اور ادائیگی کا طریقہ کیا ہو گا، یکمشت ہوگی یا قسطوں میں، یہ تمام امور پہلے طے کرنا ضروری ہیں بصورت دیگربیع منعقد نہیں ہوگی۔یہی وجہ ہے فقہائے کرام بیع کی شرائط میں ایک شرط یہ بیان کرتے ہیں۔ "أنْ يَكُونَ الثمنُ مَعلوماً للمُتَعَاقِدَيْنِ أيضاً كما تَقَدَّمَ؛ لأنَّه أَحَدُ العِوَضَيْنِ فاشتُرِطَ العِلْمُ به كالمبيعِ" ’’فریقین کی قیمت بھی معلوم ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کیونکہ ایک عوض یہ قیمت ہے لہٰذا فروخت کی جانے والی چیز کی طرح اس کا بھی علم ہونا چاہیے۔‘‘[1] [1] ۔الروض المربع ص:280،281۔