کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 74
نقصان کا ذمہ دار فروخت کنندہ کوٹھہرایا ہے۔‘‘[1] امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے موقف کی تائید میں امام زہری کا یہ قول بھی پیش کیا ہے: " لَوْ أنَّ رجُلاً ابْتَاعَ تَمْرا قَبْلَ أنْ يَبْدُو صَلاَحُهُ ثُمَّ أصابَتْهُ عاهَةٌ كان ما أصابه علي ربه " ’’اگر کوئی شخص صلاحیت پیدا ہونے سے قبل پھل فروخت کردے پھر اس پر کوئی آفت آجائے تو نقصان باغ کے مالک کے ذمے ہوگا۔‘‘ بظاہر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ہی سہل اور معقول معلوم ہوتا ہے اور یہ باغات کی خریدوفروخت کے عصری تقاضے پورے کرتا ہے، اس کے مقابلے میں دیگر نقطۂ ہائے نظر لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث ثابت ہوسکتے ہیں۔البتہ باغات کی خریدوفروخت کی وہ صورت ضرور ممنوع ہوگی جس میں باغ کو دویا تین سال کے لیے ٹھیکے پردے دیا جاتا ہے جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " ’’کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے(باغات کو) کئی سال کے لیے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘[2] کیونکہ اس صورت میں جب بیع ہوتی ہے تو پھل کانام ونشان بھی نہیں ہوتا حالانکہ جب تک کوئی چیز وجود میں نہ آجائے شریعت کی رو سے اس کی بیع جائز نہیں۔اسے بیع سلم پر بھی قیاس نہیں کیاجاسکتا کیونکہ متعین باغ کی پیداوار میں سلم جائز نہیں۔ سپردگی ممکن ہو فروخت کی جانے والی چیز کے متعلق چوتھا حکم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اس کو خریدار کے [1] ۔فتح الباري :ج 4 ص 503۔ [2] ۔صحيح مسلم باب كراء الارض۔