کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 70
لحاظ سے بالکل واضح اور متعین ہو، کسی بھی اعتبار سے مبہم یا غیر واضح نہ ہو، اس قسم کے ابہا م کو اصطلاح میں’’غرر‘‘(Uncertainty) کہتے ہیں جو شریعت کی نظر میں ممنوع ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: "نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ" ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع اور غرر پر مشتمل بیع سے منع فرمایا ہے۔‘‘[1] کنکری کی بیع خرید وفروخت کا وہ طریقہ ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا۔فروخت کنندہ خریدار سے کہتا میں یہ کنکری پھینکتا ہوں یہ جہاں گرے گی میں وہاں تک یہ زمین آپ کو اتنے میں فروخت کرتا ہوں۔یہ ممنوع ہے، کیونکہ اس صورت میں زمین مبہم رہتی ہے، جبکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ جو چیز فروخت کی جارہی ہو وہ واضح اور متعین ہونی چاہیے۔یہ بھی اصل میں غرر ہی ہے مگر چونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس میں ملوث تھے اس لیے اس کا علیحدہ تذکرہ فرمایا۔اس نوعیت کی اور بھی کئی بیوع رائج تھیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب پر پابندی عائد فرمادی۔ ہمارے معاشرے میں ہاؤسنگ اسکیموں کی فائلیں فروخت کرنے کا رواج ہے حالانکہ ابھی وہاں نہ تو پلاٹنگ ہوئی ہوتی ہے اور نہ ہی افراد کا الگ الگ حصہ متعین ہوتا ہے۔شرعی اعتبار سے فائلز کی خریدوفروخت جائز نہیں کیونکہ جب تک اسکیم کی پلاٹنگ نہ کردی جائے پلاٹ مبہم رہتا ہے جس کی نشاندہی ممکن نہیں ہوتی اور مبہم چیز کی خریدوفروخت ناجائز ہے۔اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے پلاٹنگ کی جائے اس کے بعد خریدوفروخت شروع ہو۔ زمین میں پوشیدہ سبزیوں کی بیع بعض اوقات کاشت کار شلجم، گاجر، مولی، اروی، لہسن اور پیاز وغیرہ کی فصل کو زمین کے اندر ہی فروخت کردیتے ہیں، چونکہ یہ سبزیاں زمین میں پوشیدہ ہوتی ہیں اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا [1] ۔صحيح مسلم باب بطلان بيع الحصاة۔