کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 68
’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور فال نكالنے كے تير ناپاک ہیں،شیطانی عمل ہیں لہذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘[1] ﴿ قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ ’’کہہ دیجئے میری طرف جو وحی کی گئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو پس یقیناً وہ نجس ہے۔‘‘[2] ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ ’’بعض لوگ وہ ہیں جو دلفریب باتیں خریدتے ہیں تا بغیر علم کے اللہ کی راہ سے گمراہ کریں اور ان کو مذاق بناتے ہیں ان لوگوں کے لیے رسواکن عذاب ہے۔‘‘[3] قرآن مجید کی ان آیات میں شراب، جوئے، بتوں، فال نکالنے کے تیروں،مردار، بہائے گئے خون، خنزیر کے گوشت اور دلفریب باتوں کی حرمت بیان کی گئی ہے۔شراب کے علاوہ دیگر منشیات اور مخذرات کا بھی یہی حکم ہے۔اسی طرح بتوں کے علاوہ باقی آلات شرکیہ بھی اس حرمت میں داخل ہیں جبکہ دلفریب باتوں میں گانے، موسیقی، ناول، فحش لٹریچر اور باطل نظریات پر مشتمل کتب سب شامل ہیں۔لہذا گانوں اور موسیقی پر مشتمل آڈیو، ویڈیو کیسٹس، سی ڈیز،فحاشی،جادو اور علم نجوم کی تعلیم پر مبنی کتب کی تجارت حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلے اور کتے کی قیمت سے بھی منع فرمایا ہے۔ابوزبیر کہتے ہیں میں نے: [1] ۔المائدۃ:9۔ [2] ۔الانعام :145۔ [3] ۔لقمٰن :6۔