کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 59
’’بہترین مومن وہ ہے جو خریدو فرخت، قرض کی ادائیگی اور مطالبہ میں نرم ثابت ہوتا ہے۔‘‘[1] بعض اوقات چیز خریدنے کے بعد انسان کو اس کی ضرورت نہیں رہتی یا وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی، اس صورت میں اگرچہ شریعت دوسرے فریق کو مجبور تو نہیں کرتی کہ وہ ضرور واپس کرے لیکن اگر وہ ایسا کرلے تو یہ بہت بڑی نیکی ہوگی۔سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللّٰهُ عَثْرَتَهُ " ’’جو مسلمان کا سودا واپس کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی غلطیوں سے درگز فرمائے گا۔‘‘[2] ہمارے ہاں بعض دکان داروں نے یہ عبارت لکھ کر آویزاں کی ہوتی ہے۔ ’’خریدا ہوامال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا‘‘ یہ رویہ نہ تو اس جذبہ اخوت و محبت کے مطابق ہے جس کی تعلیم اسلام اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے اور نہ ہی کاروباری لحاظ سے فائدہ مند،کیونکہ جب کسی تاجر کی یہ شہرت ہو جائے کہ وہ خریدی گئی چیز واپس یا تبدیل نہیں کرتا تو لوگ اس کی دکان پر جانے سے کتراتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاروبار سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ سودے پر سودا کرنا ممنوع ہے دوپارٹیوں کے درمیان معاملہ طے پا جانے کے بعد تیسرے فریق کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی پارٹی کو ورغلا کر سودا خراب کرنے کی کوشش کرے۔نہ تو خریدار سے یہ کہا جا سکتاہے کہ آپ سودا [1] ۔طبراني اوسط :ج 7 ص 297۔ [2] ۔سنن ابي داود باب في فضل الاقالة۔