کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 48
" أَنَّ مُعَاوِيَةَ، بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ: أَبُو الدَّرْدَاءِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ»" ’’ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سونے یا چاندی کی بنی ہوئی ایک مشک اس کے وزن سے زائد وزن کے عوض فروخت کی تو حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ اس طرح کے سودے سے منع کرتے تھے سوائے اس کے کہ برابر برابر ہو۔‘‘[1] 2۔بیع محاقلہ وبیع مزابنہ:سودی خریدوفروخت کی دوسری صورت بیع محاقلہ اور بیع مزابنہ ہے۔بیع محاقلہ کا معنی ہے خوشہ میں موجود کھیتی کو اس جس کی ایک معلوم مقدار کے عوض بیچنا مثلاً ایک ایکڑ گندم کی فصل کو پچاس من گندم کے بدلے فروخت کرنا۔جبکہ مزابنہ کا معنی ہے درخت کی شاخوں پر موجود پھل کو اسی قسم کے اتارے ہوئے پھل کے بدلے بیچنا۔ چونکہ ایک قسم کی دو چیزوں کے باہمی تبادلے میں حقیقی برابری شرط ہے جبکہ ان صورتوں میں ایک طرف کی مقدا ر تو معلوم ومتعین ہوتی ہے اور دوسری جناب محض اندازہ وتخمینہ ہوتا ہے جس کے برابر ہونے کا یقین نہیں ہوتا اس لیے یہ دونوں قسمیں حرام ہیں۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: "نَهَى النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ" ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔‘‘[2] صحیح مسلم میں ہے: "أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَقَالَ: ذَلِكَ الرِّبَا، تِلْكَ المُزَابَنَةُ " [1] ۔سنن النسائی :باب بیع الذھب بالذھب۔ [2] ۔صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع المزابنة۔