کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 46
" جَاءَ بِلالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا ؟ قَالَ:بلالٌ كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيٌّ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِيُطْعِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ أَوَّهْ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمْرَ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِهِ" ’’ایک دفعہ بلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لے کرآئے۔آپ نے پوچھا یہ کہاں سے لائے ہو؟انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس گھٹیا قسم کی کھجور تھی میں نے وہ دو صاع دے کر ایک صاع خرید لی تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ کھجوریں کھلائیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں یہ قطعی سود ہے ایسا ہرگز نہ کرو۔جب تم عمدہ کھجوریں خریدنا چاہوتو اپنی کھجوریں کسی دوسری چیز کے عوض بیچ دو اس سے عمدہ کھجوریں خرید لو۔‘‘[1] اسی طرح اگر کسی چیز میں سونا اور دوسری اشیاء مخلوط ہوں تو جب تک سونے کو علیحدہ نہ کرلیا جائے اس کو اسی حالت میں متعین سونے کے عوض بیچنا جائز نہیں ہے۔چنانچہ سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: " أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ، وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ تُبَاعُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ» " ’’خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں کوڑیاں اور سونا تھا۔وہ مال غنیمت میں سے تھا اور فروخت کیا جارہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار میں موجود سونے کے بارے میں فرمایا تو اسے الگ کردیا گیا پھر آپ نے ان سے کہا سونا سونے کے [1] ۔صحيح البخاري باب اذا باع الوكيل شئياً صحيح مسلم بيع الطعام مثلا بمثل۔