کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 44
صریح حرام ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ، أَوِ اسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ" ’’سونا سونے کے بدلے اور چاندی، چاندی کے بدلے اور گندم، گندم کے بدلے اور جو،جو کے بدلے اور کھجور، کھجور کے بدلے اور نمک،نمک کے بدلے دونوں طرف سے برابر اورنقد ونقد ہو۔جس نے زائد دیا زائد کا مطالبہ کیا اس نے سود کا لین دین کیا اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔‘‘[1] دوسری حدیث میں ہے: " فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ،فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " ’’ جب یہ اشیاء مختلف ہوں تو جس طرح چاہو فروخت کرو بشرط یہ کہ تبادلہ نقد ونقد ہو۔‘‘[2] علمائے کرام ان چھ اشیاء کو دوگروپوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ 1۔سونا، چاندی۔ 2۔گندم، جو، کھجور اور نمک۔ اور ان کے باہمی تبادلے کی جائز وناجائز صورتیں یوں بیان کرتے ہیں۔ ٭ ایک گروپ کی دو ایک جیسی چیزوں جیسے سونے کا سونے یا چاندی کا چاندی یا گندم کا گندم کے ساتھ آپس میں تبادلہ، اس میں کمی بیشی اور ادھار دونوں منع ہے۔ادھار ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دو ایک جیسی چیزوں میں حقیقی برابری تب ممکن ہے جب دونوں کی ادائیگی کا وقت بھی ایک ہو۔ [1] ۔صحیح مسلم باب الصرف وبیع الذھب۔ [2] ۔صحیح مسلم باب بیع الصرف وبیع الذھب۔