کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 35
حوالے کردے گا، یہ غیر ملکیتی شیئرزکی بیع ہے جو ناجائز ہے۔اگر مارکیٹ میں مندے کی بجائے تیزی غالب رہے توShort sales کرنے والوں کو اچھا خاصا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔جب بھی سٹاک مارکیٹ کسی بڑے بحران سے دوچار ہوتی ہے اس میں نمایاں کردار اسی شارٹ سیل کا ہوتا ہے۔ قبضہ سے قبل فروخت نہ کریں عصر حاضر میں خریدی گئی چیز کو قبضہ میں لئے بغیر آگے فروخت کرنے کا عام رواج ہے بالخصوص درآمدات میں سامان منزل مقصود پہنچنے سے قبل کئی جگہ فروخت ہو چکا ہوتا ہے اور ظاہر ہے ہر خریدار کچھ منافع رکھ کر ہی آگے فروخت کرتا ہے اس لیے مارکیٹ پہنچتے پہنچتے اس چیز کی قیمت بڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔اس کے علاوہ ایک معاشی نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بار برداری کے شعبہ سے وابستہ مزدوروں کا روز گارمتأثر ہوتا ہے۔یہ شریعت مطہرہ کے محاسن میں سے ہے کہ اس نے یہ قانون بنادیا ہے جب کسی چیز کا سودا طے پاجائےاور خریدار اس کو آگے فروخت کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے وہ اسے قبضہ میں لے کر کسی دوسری جگہ منتقل کردے، اسی جگہ فروخت کرنا منع ہے۔چنانچہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہےکہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنِ ابْتاعَ طَعامًا فلا يَبِعْهُ حتَّى يَسْتَوْفِيَهُ" ’’جوغلہ خریدے وہ قبضہ سے پہلے فروخت نہ کریں۔‘‘[1] جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ، إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ، قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ " ’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غلہ خریدتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو [1] ۔صحیح البخاری كتاب البيوع باب بيع الطعام قبل ان يقبض۔