کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 32
وأعطاه المثل عند وجوده أو قيمته وهذا قدر متفق عليه بين الأئمة ولا يعلم خلاف في ذلك" ’’جب عوام کے متأثر ہونے کا اندیشہ ہوتو حاکم ذخیرہ اندوز کو مجبور کرے گا بلکہ اس سے ذخیرہ شدہ مال لے کر فروخت کردے گا اور اس کو اس مال کا مثل جب موجود ہو یا اس کی قیمت دے گا۔اتنی بات تمام آئمہ میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘[1] ٭کسی کی چیز زبردستی لینے کی چوتھی صورت یہ ہے کہ حکومت کو عوامی مقاصد کے لیے کسی جگہ کی حقیقی ضرورت ہو اور مالکان بیچنے پر آمادہ نہ ہوں تو حکومت وہ جگہ زبردستی بھی حاصل کرسکتی ہے تاہم حکومت پر فرض ہوگا کہ مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ادائیگی کرے۔حکومت بازاری قیمت ادا کیے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کرسکتی۔ خریدنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلقین بھی فرمائی ہے کہ بیچنے والا فقط اسی چیز کا سودا کرے جس کا وہ کلی طور پر مالک بن چکا ہو۔بعض دفعہ کاروباری حضرات کے پاس چیز موجود نہیں ہوتی مگر وہ اس اُمید پر سودا طے کرلیتے ہیں کہ بعد میں کہیں سے خرید کر فراہم کردیں گے یہ منع ہے، کیونکہ ممکن ہے مالک وہ چیز بیچنے پر آمادہ ہی نہ ہو یا وہ اس کی قیمت فروخت سے دگنی قیمت طلب کرلے اور یہ نقصان سے بچنے کے لیے خود ہی خریدنے پر تیار نہ ہو، اس طرح فریقین کے مابین تنازعات جنم لینے کا اندیشہ ہے، لہذا شریعت اسلامیہ نے ان کے سد باب کے لیے یہ اصول بنادیا ہے کہ وہ متعین چیز جو فی الحال فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہواس کا سودا نہ کیا جائے، جیسا کہ جناب حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: [1] ۔الموسوعۃ الفقھیۃ ج 2 ص 95۔