کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 30
سورہ نساء کی یہ آیت تجارتی اور معاشی تعلقات کے متعلق بنیادی اُصول پیش کررہی ہے کہ وہ کاروباری اور تجارتی معاملات جن پر دونوں فریق یکساں مطمئن اور راضی نہ ہوں باطل ہیں۔یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ لین دین میں فریقین کی باہمی رضا مندی لازم ہے شریعت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی کسی کو اپنی چیز بیچنے پر مجبور کرے یا زبردستی اپنی پسند کی قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اسلام نے ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت کو یکساں محترم قراردیا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لاٹھی جیسی معمولی چیز کوبھی قابل حرمت قراردیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ " ’’کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی (بھی) اس کی قلبی خوشی کے بغیر لے۔‘‘[1] خاص خریدوفروخت کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ " ’’بیع صرف باہمی رضا مندی سے ہوتی ہے۔‘‘[2] واضح رہے یہ رضا مندی حقیقی ہونی چاہیے نہ کہ مصنوعی۔لہذا کسی دباؤ کے تحت یا غلط تاثر کی بنیاد پر یا دوسرے فریق کو چیز کی حقیقت سے بے خبر یا اصل قیمت سے دھوکے میں رکھ کر حاصل کی گئی رضا مندی قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ مصنوعی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے شریعت نے اس قسم کی دھوکہ دہی کی صورت میں متأثرہ فریق کو معاملہ منسوخ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اگر انتہائی بے بسی اور مجبوری کی بنا پر اپنی چیز بیچ رہا ہو تو ایسے شخص سے مارکیٹ ریٹ سے بہت کم پر خریدنا اگرچہ بظاہر وہ اس پر راضی بھی ہوناجائز ہے۔معمولی کمی بیشی [1] ۔بلوغ المرام بحواله ابن حبان والحاكم۔ [2] ۔ارواء الغلیل ج 5 ص 125۔