کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 210
کیا جاتا ہے تو اس صورت میں گیارہ سکے دینے کا معنی ہو گا۔کہ پورا درہم واپس کیا گیا ہے جبکہ دس سکے واپس کرنے کا مطلب ہو گا کہ درہم کا دسواں حصہ کم کردیا گیا ہے لہذا گیارہ سکے واپس کئے جائیں گے۔اس سے یہ استدلال کیا جاتاہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کرنسی کی قوت خرید میں کمی کا ازالہ مقروض کی ذمہ داری ہے۔لیکن اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذکورہ موقف سے یہ قطعاً ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مالی واجبات کی ادائیگی میں کرنسی گرانی وارزانی کو پیش نظر رکھنے کے قائل ہیں۔ 1۔ایک تو اس لیے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے صرف ایک واقعاتی صورت کا حل بتایا ہے کہ اگر اس قسم کا معاملہ پیش آجائے تو یوں تصفیہ کر لیا جائے، ان کا یہ مطلب قطعانہیں ہے کہ بائع یا قرض دہندہ معاہدے کے وقت پیشگی یہ شرط لگالے جبکہ اشاریہ بندی کے حامی تو کہتے ہیں کہ اسے بطور نظام نافذ کردیا جائے۔ظاہر ہے یہ ان حضرات کی اپنی رائے تو ہو سکتی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی مراد یہ ہر گز نہیں ہے۔ 2۔دوسرا اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ سکے درہم کی ریز گاری ہیں اور سکے قرض لینے کا مطلب درحقیقت درہم قرض لینا ہے، لہذا درہم کے ساتھ ان کی نسبت تبدیل ہونے پر اتنے سکے ادا کئے جائیں گے جودرہم کی مالیت کے برابر ہوں۔لیکن مروجہ کرنسی دھاتی سکوں سے بالکل مختلف ہے یہ کسی کرنسی کی ریز گاری نہیں بلکہ سونے چاندی کی مانند خود مستقل کرنسی ہے اس لیے کرنسی نوٹوں کو ان پر قیاس کرنا درست نہیں۔ فائدہ: دھاتی سکے دراہم کی ریزگاری ہیں اور ان کی قیمت کم ہونے کا معنی درہم کے ساتھ ان کی نسبت بدل جانا ہے اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ احمد بن الھائم(متوفی 815ھ)نے اپنے رسالہ’’نزھۃ النفوس فی بیان حکم التعامل بالفلوس‘‘کے مقدمہ میں ذکر کیاہے کہ پہلے قدس شریف میں ایک درہم میں اسی سکے ہوتے تھے لیکن بعد میں چھیانوے کردئیے گئے یوں سکوں کی قیمت کم ہوگئی پھر اس میں مزید تبدیلیاں آتی رہیں چنانچہ لوگ اپنے معاملات کے حوالے سے