کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 204
٭ یہ فتوی سودی کاروبار کے لیے بطور ڈاھل استعمال ہو سکتا ہے وہ یوں کہ قرض دہندہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس کو قرض نہیں دیا بلکہ اپنے نوٹ ادھار زائد قیمت پر فروخت کئے ہیں اس طرح وہ جتنا سود چاہے لے سکتا ہے۔ بریلوی علماء بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اس طرح سود کا دروازہ چوپٹ کھل جائے گا چنانچہ مشہور بریلوی عالم مولانا غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ ’’اگر قرض دینے والا اپنے قرض کے بدلے سود لینا چاہے گا تو وہ اس طرح بآسانی لے سکے گا کہ قرض دار کو اپنے کرنسی نوٹ زیادہ قیمت پر فروخت کرے گا اس طرح وہ اپنےقرض کے بدلے سود حاصل کرے گا۔‘‘[1] مندرجہ بالا بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی نوٹوں کے زر ہونے میں اب کوئی اشکال نہیں رہا اس لیے اہل علم سوداور زکوۃ کے معاملہ میں بلا تر دوان پر سونے، چاندی کے احکام منطبق کرتے ہیں۔ قرضوں کی اشاریہ بندی (انڈیکسيشن) اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کاغذی کرنسی کی تیزی کے ساتھ گرتی ہوئی قیمت کے ہماری معیشت پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور لوگوں کے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں، بالخصوص کم آمدنی والا طبقہ بہت بری طرح متأثر ہو رہا ہے۔اصحاب ثروت میں قرض حسنہ دینے کا جذبہ ماند پڑ رہا ہے۔لوگ کسی فاقہ مست کو قرض دینے کی بجائے سونا یا زمین خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں جو رقم ہم آج بطور قرض دینگے چھ مہینے بعد اس سے وہ چیز حاصل نہیں ہو سکے گی جو آج ہو سکتی ہے لہٰذاقرض دینے کی بجائے بہتر ہے اس سرمایہ سے سونا یا کوئی جائیدادخرید لی جائے۔یوں اسلامی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ [1] ۔شرح صحيح مسلم ج 4 ص 366۔