کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 193
کا صحیح ترین نقطہ نظر یہی ہے کہ دھاتی سکوں میں ربا نہیں ہے بلکہ یہ سامان کی طرح ہیں۔‘‘[1] "ذهب جمهور الفقهاء – أبو حنيفة وأبو يوسف والمالكية على المشهور والشافعية والحنابلة – الى أن المضاربة لا تصح بالفلوس؛ لأن المضاربة عقد غرر جوز للحاجة، فاختص بما يروج غالبا وتسهل التجارة به وهو الاثمان" ’’امام ابو حنیفہ،ابو یوسف،مالکی(مشہور مسلک کے مطابق)شافعی اور حنبلی فقہاء کا خیال ہے کہ دھاتی سکوں کے ذریعے مضاربہ درست نہیں کیونکہ مضاربہ عقد غرر ہے جو ضرورت کی بنا پر جائز قراردیا گیا ہے چنانچہ یہ انہی چیزوں کے ساتھ خاص رہے گا جو اکثر مروج ہوں اور ان کے ساتھ تجارت آسان ہو۔اور وہ نقدیاں ہیں۔‘‘[2] یعنی دھاتی سکے زر نہیں۔ "فذهب الشافعية والحنابلة إلى أن الفلوس كالعروض فلا تجب الزكاة فيها إلا إذ عرضت للتجارة" ’’شافعی اور حنبلی فقہاء کی رائے میں دھاتی سکے سامان کی طرح ہیں چنانچہ ان میں زکوۃ اسی وقت واجب ہوگی جب یہ تجارت کی غرض سے ہوں۔‘‘[3] ان فقہاء کے نقطۂ نظر کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ کسی حدیث میں دھاتی سکوں کی زکوۃ کا تذکرہ نہیں ملتا حالانکہ عہد نبوی میں یہ موجود تھے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔اگر یہ زر ہوتے تو سونے چاندی کی طرح ان کی زکوۃ کا بھی ذکر ہوتا۔حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس [1] ۔32/205 :مادۃ فلوس۔ [2] ۔الموسوعة الفقهية الكويتية ماده: مضاربة۔ [3] ۔ايضاً 32/205۔