کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 188
کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت اب نوٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے اس کے بارہ میں علماء کی مختلف آراء ہیں۔ 1۔پہلی رائے یہ ہے کہ نوٹ اصل میں اس بات کا دستاویزی ثبوت ہیں کہ حامل نوٹ نے اس نوٹ کے جاری کنندہ سے اتنا سونا یا چاندی وصول پانی ہے اس کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ نوٹ پر یہ الفاظ تحریر ہوتے ہیں۔ ’’حامل ہذکو مطالبہ پر ادا کرے گا‘‘ اس رائے کے مطابق نوٹوں کے ساتھ سونا چاندی خریدنا جائز نہیں کیونکہ نوٹ کے ساتھ خریداری کا مطلب حقیقت میں اس سونے چاندی کے ساتھ خریداری ہے جو اس نوٹ کی پشت پر ہے اور شرعی اعتبار سے سونے کی سونے یا چاندی کی سونے کے ساتھ بیع میں دونوں طرف سے موقع پر قبضہ شرط ہے جو یہاں مفقود ہے کیونکہ خریدار نے سونے کے بدلے سونا نہیں دیا بلکہ اس کی رسید دی ہے۔چنانچہ تفسیر اضواء البیان کے مصنف علامہ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں۔ "وأنها سند بفضة وأن المبيع الفضة التى هى سند بها ومر. المكتوب عليها فهم صحة ذلك، وعليه فلا يجوز بيعها بذهب ولا فضة ولو يداً بيد لعدم المناجزة بسبب غيبة الفضة المدفوع سندها" ’’یہ نوٹ چاندی کی رسید ہیں اور بیچی گئی چیز وہ چاندی ہے جس کی یہ رسید ہیں۔جو ان پر لکھی عبارت پڑھےگا وہ اس رائے کا درست ہونا سمجھ جائے گا۔اس رائے کے مطابق نوٹوں کی سونے چاندی کے بدلے بیع چاہے نقد ہو جائز نہیں کیونکہ جس چاندی کی رسیددی جاتی ہے وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے دونوں طرف سے موقع پر قبضہ کی شرط نہیں پائی جاتی۔‘‘[1] [1] ۔اضواء البيان في تفسير القرآن بالقرآن ج1 ص 207۔