کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 187
’’اہل چین درہم یا دینار کے ذریعہ سے خریدوفروخت نہیں کرتے بلکہ سونے اور چاندی کو پگھلا کر ان کے ڈلے بنا کر رکھ چھوڑتے ہیں اور کاغذ کے ٹکڑوں کے ذریعہ سے خریدوفروخت کرتے ہیں۔یہ کاغذ کاٹکڑا کفدست (ایک بالشت) کے برابر ہوتا ہے۔اور بادشاہ کے مطبع میں اس پر مہر لگاتے ہیں ایسے پچیس کاغذوں کو بالشت کہتے ہیں ہمارے ملک میں یہ لفظ دینار کے معنی میں مستعمل ہوتاہے۔جب یہ کاغذ کثرت استعمال سے یا کسی اور طرح پھٹ جاتا ہے تو وہ دارالضرب میں لے جاتے ہیں اور اس کے عوض نیا لے آتے ہیں۔یہ دارالضرب ایک بڑےدرجہ کے امیرکی تحویل ہے۔جب کوئی شخص بازار میں درہم یا دینار لے کر خریدو فروخت کرنے جاتا ہے تو وہ درہم یا دینا نہیں چلتے لیکن وہ درہم یا دینارکے عوض یہ کاغذ لے سکتا ہے اور ان کے عوض جو چیز چاہے خرید سکتا ہے۔‘‘ مشہور مؤرخ ابن مقریزی رحمہ اللہ جب بغداد گئے تھے تو انھوں نے بھی وہاں چین کے نوٹوں کا مشاہدہ کیا تھا۔[1] چین کے بعد جاپان دوسرا ملک ہے جہاں چودھویں صدی عیسوی میں کرنسی نوٹ جاری ہوئے۔یورپ میں پہلا باقاعدہ نوٹ 1661ءکو سٹاک ہام بینک آف سویڈن نے جاری کیا۔انگلینڈ نے1695ءمیں کرنسی نوٹ جاری کئے۔ہندوستان میں پہلا نوٹ5جنوری1825ءکو بینک آف کلکتہ نے جاری کیا جس کی مالیت دس روپے تھی۔آزادی کے بعد پاکستان میں کرنسی نوٹ یکم 1948ءکو جاری کئے گئے۔ ابتداء میں تو نوٹ کی پشت پر سو فیصد سونا ہوتا تھا لیکن بعد میں مختلف معاشی وجوہ کے باعث سونے کی مقدار سے زائد نوٹ جاری کئے جانے لگے اور مختلف ادوار میں یہ تناسب بتدریج کم ہوتا رہا یہاں تک کہ 1971ءسے نوٹ کا سونے سے تعلق بالکل ختم ہو چکا ہے۔ [1] ۔الموسوعة الفقهية 41/166،167۔ماده نقود۔