کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 184
آسان نہیں ہوتی اس لیے یہ نظام مستقل جاری نہ رہ سکا۔لوگوں نے اس کی جگہ سونے چاندی کا استعمال شروع کردیا۔ابتداء میں سونے چاندی کے وزن کا ہی اعتبار ہوتا تھا۔سکوں کا رواج بعد میں شروع ہوا۔سکے کب وجود میں آئے اس کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے البتہ قرآن مجید سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں دراہم موجود تھے کیونکہ ان کے بھائیوں نے انہیں دراہم کے عوض بیچا تھا۔ ﴿وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ ’’انہوں نے اس کو انتہائی کم قیمت جو گنتی کے چند درہم تھے کے عوض فروخت کردیا۔‘‘[1] حضرت یوسف علیہ السلام کادور 1910 تا 1800 ق م ہے۔ کہتے ہیں سونے کا سکہ سب سے پہلے لیڈیا کے بادشاہ کروسس(دورحکومت 560 تا 546 ق م) نے متعارف کرایا۔ عہد نبوی کی کرنسی بعثت نبوی کے وقت عرب میں لین دین کا ذریعہ درہم ودینار تھے لیکن گنتی کی بجائے وزن کا اعتبار کیا جاتا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ درہم ودینار عرب کے مقامی سکے نہ تھے بلکہ ہمسایہ اقوام سے یہاں آتے تھے۔درہم ساسانی سکہ تھا جو عراق کے راستے عرب پہنچتا اور لوگ اس کی بنیاد پر باہم لین دین کرتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو برقرار رکھا۔یہ دراہم چونکہ مختلف وزن کے ہوتے تھے اس لیے جب نصاب زکوۃ کے لیے درہم کا وزن مقرر کرنے کی نوبت آئی تو مسلمانوں نے ان میں سے متوسط کو معیار بنایا چنانچہ اسی کو شرعی درہم سمجھا گیا۔ایک قول کے مطابق یہ کام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جبکہ دوسرے قول کے مطابق بنو امیہ کے دور میں ہوا۔جو صورت بھی ہوتا ہم آخر کار شرعی درہم پر اجماع ہوا وہ وہی ہے جو عبدالملک بن مروان کے دور [1] ۔یوسف۔20۔