کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 182
’’معیاری قاعدہ زر‘‘(Gold Specie Standdard) کا اجراء کیا جائے۔چنانچہ کویت کے فقہی انسائیکلو پیڈیا میں ان کی رائے یوں درج ہے۔ ’’نرخوں میں افراتفری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کی موجوں کا علاج صرف یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے زرکے استعمال کی طرف لوٹا جائے۔‘‘ ان کے دور میں افراط زر کا جو بحران پیدا ہوا تھا ان کی نظر میں اس کا ایک سبب سونے کی جگہ معدنی سکوں سے لین دین تھا جس سے قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔چنانچہ وہ اس پر روشنی ڈالنے کے بعد فرماتے ہیں۔ ’’اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے دیں جن کے سپرد اس نے اپنے بندوں کے امور کر رکھے ہیں یہاں تک کہ وہ لین دین کو سونے کی طرف لے جائیں اور سامان کی قیمتوں اور اجرتوں کے دینار اور درہم سے وابستہ کردیں تو اس سے امت کا بھلا اور امور کی اصلاح ہوگی۔‘‘[1] جبکہ جدید ماہرین معیشت کے نزدیک حکومت کا حقیقی پیداوار کو نظرانداز کر کے نوٹ چھاپنا، اشیاء وخدمت کی طلب ورسد کے درمیان عدم توازن، اسراف و تبذیر، تاجروں میں ناجائز منافع خوری کا رجحان اور اشیاء کی پیدا واری لاگت میں اضافہ وہ عوامل ہیں، جو کرنسی کی قدر میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، ان مسائل کو حل کر کے کرنسی کی قدر میں استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔ان حضرات کی رائے میں سونے، چاندی کے سکے شرعی تقاضا نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سونے، چاندی کے سکوں کی پابندی ریاست کے لیے غیر ضروری زحمت کا موجب بھی بن سکتی ہے، ممکن ہے ریاست کے پاس سکے بنانے کے لیے سونے چاندی کے وسیع ذخائر موجود نہ ہوں۔البتہ جب افراط زر کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر جائے تو اس کا کوئی معقول حل ہونا چاہیے جیسا کہ علماء کی آراء گزر چکی ہیں۔ [1] ۔الموسوعة الفقهية 41/48،49 مادة نقود۔