کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 181
سونے کی قوت خرید یہی ہے۔ ان دو مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت سے لے کر اب تک سونے کی قدر میں غیر معمولی کمی نہیں ہوئی،اگر کسی دور میں ایسا ہوا بھی تو بعد میں معاملہ الٹ ہوگیا۔البتہ اس عرصہ کے دوران سونے کی نسبت چاندی کی قوت خرید میں کافی کمی آئی ہے۔عہد نبوی میں تقریباً 10 درہم تقریباً 30 گرام چاندی سے ایک بکری خریدی جاسکتی تھی اس کی دلیل وہ روایت ہے جس میں اونٹوں کی زکوۃ کے ضمن میں یہ بیان ہوا ہے۔ " مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الجَذَعَةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا " ’’جس کے اونٹوں کی زکوۃ میں جذعہ(چارسالہ اونٹ) فرض ہوا اور اس کے پاس جذعہ نہ ہوتو اس سے تین سالہ اونٹ قبول کرلیا جائے گا اور وہ ساتھ دوبکریاں اگر آسانی سے میسر ہوں دے گا یا بیس درہم۔‘‘[1] یعنی ایک بکری کے بدلے دس درہم۔ لیکن آج کل اتنی چاندی میں ایک بکری نہیں خریدی جاسکتی۔تاہم اس کمی سے اس قسم کے تباہ کن معاشی حالات پیدا نہیں ہوتے رہے جن سے لوگ کاغذی کرنسی کی وجہ سے دوچار ہیں۔ اس لیے ماہرین معیشت کی رائے میں کاغذی کرنسی کی قدر میں ہوش رباتغیر اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے طوفان کا ایک ہی حل ہے کہ مالیاتی لین دین کی بنیاد سونے چاندی کو بنایا جائے، چنانچہ آج کل پوری دنیا میں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دوبارہ سونے، چاندی کے سکوں کا نظام رائج کیا جائے۔ ابن مقریزری رحمہ اللہ کے نزدیک بھی نرخوں میں بے تحاشہ اضافے کا حل یہی ہے کہ از سر نو [1] ۔صحيح البخاري كتاب الزكاة باب من بلغت عنده صدقة بنت مخاض وليست عنده۔