کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 167
فن کو بھی نقد کہتے ہیں۔‘‘ فقہی لٹریچر میں نقد کا لفظ تین معانی کے لیے آتا ہے۔ 1۔سونے چاندی کی دھاتیں خواہ وہ ڈلی کی شکل میں ہوں یا ڈھلے ہوئے سکوں کی صورت میں، چنانچہ فقہاء کی عبارات میں سونے چاندی کے لیے النقدا کا لفظ بکثرت استعمال ہوا۔ 2۔سونے چاندی کے سکوں کے لیے چاہے وہ عمدہ ہوں یا غیر عمدہ، سونے چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات سے بنے ہوئے سکوں کو فُلُوس کہتے ہیں۔اس معنی کے مطابق فلوس نقد میں شامل نہیں۔ 3۔ہر وہ چیز جو بطور آلہ تبادلہ استعمال ہو چاہے وہ سونے کی یا چاندی، چمڑے پیتل اور کاغذ وغیرہ کی بشرط کہ اس کو قبولیت عامہ حاصل ہو۔عصر حاضر میں نقد کا لفظ اس تیسرے معنی کے لیےہی استعمال ہوتا ہے۔[1] چنانچہ اقتصادی ماہرین نقد(زر)کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں۔ "إن للنقد ثلاث خصائص متى توفرت في مادة ما، اعتبرت هذه نقدا:الأولى: أن يكون وسيطا للتبادل. الثانية: أن يكون مقياسا للقيم، الثالثة أن يكون مستودعا للژوة " ’’زر کی تین خصوصیات ہیں جس مادہ میں بھی وہ پائی جائیں وہ زر شمار ہوگا۔ 1۔ذریعہ مبادلہ ہو۔ 2۔قیمتوں کا پیمانہ ہو۔ 3۔دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو۔‘‘[2] [1] ۔الموسوعة الفقهيه 41/173 نقود۔ [2] ۔مجلة البحوث الاسلامية :عدد 1/ ص 200۔