کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 159
ہیں مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ بانڈز اور صکوک میں یہ فرق ہے کہ بانڈز صرف قرضوں کی دستاویزات ہیں جبکہ صکوک متناسب حصے کی ملکیت کے ثبوت ہوتے ہیں۔نیز صکوک میں حاملین صکوک کے منافع کا انحصار ان اثاثہ جات سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہوتا ہے جن کی صکوک نمائندگی کرتے ہیں لیکن بانڈز میں منافع طے شدہ ہوتاہے خواہ جاری کنندہ کو نفع ہو یا نقصان۔اسی طرح شیئرز اور صکوک میں بھی فرق ہے، وہ یہ کہ صکوک مخصوص مدت مثلاً تین یا پانچ سال کے لیے جاری کئے جاتے ہیں اور شیئرز غیر معینہ مدت کے لیے ہوتے ہیں۔ صکوک کی ابتدا ء وارتقاء پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے 1980ءمیں اپنی مشہور زمانہ بلاسود بینکاری رپورٹ میں مخصوص مدت کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے کے لیے نفع ونقصان میں شراکت کے اصول کی اساس پر ایسی مالیاتی دستاویزات تیار کرنے کی تجویز پیش کی تھی جوڈی بنچرز کی جگہ لے سکیں۔اس رپورٹ میں ان کا نام بھی تجویز کردیاگیاتھا’’حصہ داری کے میعادی سرٹیفکیٹ‘‘(Participation Term Certificate) مختصراًپی، ٹی، سی کہا جاتا ہے۔1984ءمیں کونسل کی اس تجویز کے مطابق حصہ داری کے میعادی سرٹیفکیٹ متعارف بھی کرائے دئیے گئے۔اگرچہ بعض وجوہ کے باعث یہ سرٹیفکیٹ زیادہ عرصہ رائج نہ رہ سکے اور ان کی جگہ ٹرم فنانس سرٹیکفیٹ نے لے لی لیکن ہم انہیں صکوک کے اجراء کی اولین کوشش سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ جدید صکوک کا تصور انہی بنیادوں سے ماخوذ ہے جن پر پی، ٹی، سی مبنی تھے۔ تاہم باقاعدہ صکوک نام کی مالیاتی دستاویز کا اجراء 2002ءمیں ملائشیاء سے ہواتھا بعد ازاں2003ءمیں اسلامی ترقیاتی بینک جدہ صکوک جاری کئے۔اس کے بعد تو ان کے اجراء کے عمل میں کافی سرگرمی دیکھی گئی تاآنکہ 2008ءمیں مولانا تقی عثمانی نے(AAOFI) کی مجلس شرعی کے صدر کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ اور ملائشیا میں اربوں روپے کے جاری کئے گئے صکوک کی اکثریت کو غیرشرعی قرار دیا تو ان کے اجراء کے عمل میں قدرے کمی آئی تاہم یہ سلسلہ رکا