کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 153
طے شدہ منافع لیا، عملاً کوئی خدمت انجام نہیں دی۔چونکہ یہ تکنیک سودی لین دین کے ساتھ واضح مشابہت ومماثلت رکھتی ہے اور رفتہ رفتہ خالص سود کے رواج کا سبب بن سکتی ہے اس لیے یہ کسی صورت جائز نہیں ہے۔چنانچہ ڈاکٹر رفیق یونس مصری لکھتے ہیں۔ "غير أن امكان توكيل المصرف عمليه بشراء المعدات ووعده بهبتها عند انتهاء مدة الاجارة تشم منهما رائحة الحيل فالعملية تمويل في حقيقتها واجارة وهبة في شكليتها" ’’علاوہ ازیں اثاثہ جات کی خریداری کے لیے بینک کا کلائنٹ کو وکیل بنانا اور مدت اجارہ کے اختتام پر ہبہ کاوعدہ ان دونوں سے (سودی) حیلے کی بو آتی ہے۔کیونکہ یہ کاروائی حقیقت میں فنانسنگ ہے اور بظاہر اجارہ اور ہبہ ہے۔‘‘[1] اتنی بات تو اسلامی بینکاری کے حامی علماء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جب ممکن ہوتو بہتر یہی ہے کہ کلائنٹ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو خریداری کے لیے وکیل مقرر کیاجائے تاکہ سودمیں شبہ سے دور رہاجائے اور کاروائی میں مالیاتی ادارے کا بھی کوئی کردار واضح ہو۔[2] ہمارے خیال میں جب کلائنٹ کے علاوہ کسی دوسے شخص کو ایجنٹ مقرر کرنے کا بنیادی مقصد سودی شبہ سے بچنا اور لین دین میں بینک کا عملی کردار سامنے لانا ہے تو پھر اس کو صرف بہتر کے درجے میں رکھنا ہی کافی نہیں بلکہ واجب کہنا چاہیے، اورکلائنٹ کو وکیل بنانے کی تکنیک سختی سے مسترد کردینی چاہیے کیونکہ سود کے معاملے میں شبہ سود کاحکم بھی شرعی طور پر حقیقی سود جیسا ہے۔نیز اسلامی نظام معیشت کے خصائص،روائتی لیزنگ اور اسلامی اجارہ کے درمیان حقیقی فرق اجاگر کرنے اور سودی حیلوں کی روک تھام کے لیے بھی اس تکنیک پر مکمل پابندی بے حد ضروری ہے۔ [1] ۔المصارف الاسلامية ص 37۔ [2] ۔المعاییر الشرعیة :ص 136،147۔