کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 150
العملية تدخل في نطاق بيع مالايملك،او البيع قبل القبض،بل قبل الشراء،وهذا غير جائز شرعا" ’’جب وعدہ لازمی نہ ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن جب وعدہ لازم ہوتو یہ کاروائی غیر ملکیتی چیز کی بیع یا قبضہ سے بلکہ خریداری سے قبل بیع کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے اور یہ شرعاً ناجائز ہے۔‘‘[1] اسلامی بینکاری کے حامی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مذکورہ بالا خرابی تب لازم آتی ہے جب دونوں جانب سے وعدہ لازم ہو، جبکہ اسلامی بینکوں میں یہ وعدہ یکطرفہ یعنی صرف کلائنٹ کی طرف سے ہوتا ہے،بینک کو اختیار ہوتا ہے کہ معاملہ کرے یا نہ کرے۔اس کے علاوہ بینک کرایہ بھی اس تاریخ سے لینا شروع کرتاہے جب مطلوبہ چیز کلائنٹ کے حوالے کردی جاتی ہے،یہ اس بات کاثبوت ہے کہ مذکورہ وعدہ معاہدہ نہیں ہے، مگر دووجوہ کے باعث یہ جواب اہل علم کو مطمئن نہیں کرسکتا۔ 1۔ کہنے کی حد تک تو یکطرفہ ہوتا ہے لیکن حقیقت میں دوطرفہ ہوتا ہے۔کیونکہ وعدہِ اجارہ کے بعد کلائنٹ کو سوفیصد یقین ہوتا ہے کہ بینک اسے ضرور مطلوبہ چیز مہیا کرے گا۔مروجہ اسلامی بینکوں کی تاریخ میں بمشکل اِکادُکا ہی ایسے واقعات ملیں گے جن میں بینک نے وعدہ اجارہ پردستخط کے بعدکلائنٹ کو مطلوبہ چیز کی فراہمی سے انکار کیا ہو، کیونکہ اس سے بینک کی ساکھ خراب ہوسکتی ہے۔جب بینک کی طرف سے مطلوبہ چیز کی فراہمی یقینی ہے تو’’المعروف کالمشروط‘‘‘’جو بات معروف ہو ہو مشروط جیسی ہے‘‘ کے تحت عملی طور پر بینک کی طرف سے بھی لازمی وعدہ ہوا۔اور یہ بات اسلامی بینکاری کے حامی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دو طرفہ لازمی وعدہ معاہدے کے حکم میں ہے۔[2] [1] ۔المصارف الاسلامیة 36۔ [2] ۔المعاییر الشرعیة 142،151۔