کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 15
جو کسب حرام سے اپنا دامن محفوظ رکھے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: " اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ " ’’حرام کردہ امور سے پرہیز کرو سب لوگوں سے بڑے عبادت گذار بن جاؤ گے۔‘‘[1] اور حرام وسائل معاش سے پرہیز گاری ہی اصل زہد وتقویٰ ہے جیسا کہ حضرت عطیہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لاَ يَبْلُغُ العَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لاَ بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ البَأْسُ. " ’’بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک حرج والی چیزوں کے خوف سے وہ چیزیں بھی نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہ ہو‘‘[2] یہی وجہ ہے کہ جب حدیث کے عالی مرتبت امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے زہد کی حقیقت پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا: ’’زہد یہ ہے کہ جب حلال میسر آئے تو شکر میں کوتاہی نہ کرے اور حرام میں واقع ہونے سے پرہیز کرے۔‘‘[3] اسی طرح ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ سے یہ سوال ہوا کہ آپ زہد کے متعلق کوئی کتاب کیوں نہیں لکھتے تو انہوں نے جواب دیا: " قد صنفت كتاب البيوع ومراده بينت فيه ما يحل ويحرم وليس الزهد إلا الا جتناب عن الحرام والرغبة في الحلال" ’’میں نے کتاب البیوع لکھ دی ہے۔اس سے ان کی مُراد یہ تھی کہ میں نے اس میں [1] ۔سنن الترمذی باب من اتقی المحارم فھو أعبد الناس. [2] ۔سنن ترمذی باب لا یبلغ العبد ان۔ [3] ۔موسوعۃ نضرۃ النعیم ج 6 ص 2232 بحوالہ المنھاج فی شعب الایمان للحلیمی۔