کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 143
وجہ یہ ہے کہ بیع کی طرح اجارہ بھی عقد لازم ہے، لہٰذا کسی فریق کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے یکطرفہ ختم کردے۔چنانچہ ’’نیل المآرب‘‘میں ہے۔ "والإجارة عقد لازم من الطرفين ليس لواحد منهما فسخها بلا موجب؛ لانها عقد معاوضة، فكان لازما كالبيع" ’’اجارہ عقد لازم ہے۔فریقین میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے بلاوجہ فسخ کر دے، کیونکہ یہ عقدمعاوضہ ہے لہٰذا یہ بیع کی طرح لازم ہے۔‘‘[1] ہاں اگر اجارہ شدہ اثاثہ قابل استعمال نہ رہے یا پٹہ دار طے شدہ شرائط کی پابندی نہ کر رہا ہو تو ایسی صورت میں دوسرے فریق کو یکطرفہ فسخ کا اختیار حاصل ہوتاہے۔ فنانشل لیز اسلامی نظام معیشت سے شغف رکھنے والا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اجارے یعنی لیز کا مقصد تمویل(فائنانسنگ) قطعا نہیں ہے، بلکہ یہ محض کسی چیز کے حق استعمال کے لین دین کا نام ہے۔یہی وجہ ہے اسلامی تاریخ کے کسی دور میں بھی اس کو مالیاتی سہولت کی حیثیت سے اختیار نہیں کیا گیا، حالانکہ ہر دور میں سرمایہ حاصل کرنے والے بھی موجود رہے ہیں اور سرمایہ لگانے والے بھی۔ لیزنگ/اجارہ کو بطور تمویل کے لیے استعمال کرنے کا تصور ماضی قریب کی پیداوار ہے جسے 1950 کی دہائی میں ایک امریکی مالیاتی ادارے نے متعارف کرایا۔اس سے پہلے لیزنگ کا بحیثیت مالیاتی سہولت کے کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔اسے زیادہ مقبولیت 1960 کے عشرہ میں حاصل ہوئی جب فرانس کے مالیاتی اداروں نے امریکی نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ہاں اس کا آغاز کیا۔[2] [1] ۔نيل المآرب بشرح دليل الطالب :ص 202۔ [2] ۔البیوع الائتمانية بين الحل والحرمة ص 53 لدكتور محمد بن عبداللّٰه الشيباني۔