کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 14
کیا تھا،حلال وجائز طریقے سے یا ناجائز اور حرام طریقے سے۔چنانچہ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: " لاَ تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلاَهُ. " ’’قیامت کے دن انسان کے قدم اٹھ نہیں سکیں گے یہاں تک اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کن کاموں میں لگائی، اور علم کے مطابق کتنا عمل کیا، اور مال کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا، اور اپنے جسم کی توانائیاں کہاں کھپائیں۔‘‘[1] کسب حرام شریعت کی نگاہ میں ایک ایسا گناہ ہے جس میں مبتلا شخص کی عبادت اور دعاء بھی بے اثررہتی ہیں جیسا کہ اس حدیث مبارک سے عیاں ہے: "ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟" ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے پراگندہ اور غبار آلود بال اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر اے رب، اے رب کہتا ہے جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور حرام سے ہی غذا دیا گیا پھر اس کی دعائیں کیسے قبول ہوں۔‘‘[2] چونکہ حرام ذرائع سے حاصل مال کے باعث انسان کی ساری محنت وریاضت رائیگاں چلی جاتی ہے اس لیے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو سب سے بڑا عبادت گذار قراردیا ہے۔ [1] ۔سنن الترمذی باب فی القیامة. [2] ۔ صحیح مسلم باب قبول الصدقۃ من الکسب۔