کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 138
اجارہ /لیز کی شرائط جیسا کہ ہم اوپر عرض کر آئے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روسے اجارہ کی دونوں قسمیں جائز ہیں اور شریعت اسلامی دونوں کے قواعد و ضوابط پر روشنی ڈالتی ہے لیکن ہم یہاں پٹہ داری کے احکام و شرائط ہی ذکر کریں گے، کیونکہ مروجہ اسلامی بینکوں کی اجارہ مصنوعات کی بنیاد یہی قسم ہے۔اجارہ/لیز کے احکام تو بہت مفصل ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں، تاہم ذیل میں ضروری احکام کا جامع خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔ ٭ صرف وہی چیز اجارہ پر دی جاسکتی ہے جو پٹہ دہندہ(Lessor) کی ملکیت ہو اور اس کے قبضہ میں آچکی ہو۔ملکیت اور قبضہ سے قبل کسی کے ساتھ اجارہ کا معاملہ کرناجائز نہیں، کیونکہ جو چیز انسان کے پاس موجود نہ ہو اس کی بیع منع ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: " وَلاَ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " ’’جو چیز تیرے پاس موجود نہیں اس کی بیع درست نہیں‘‘[1] اجاره كسی چیز کے حق استعمال کی بیع ہے،لہذا جس طرح غیر ملکیتی چیز کی فروخت صحیح نہیں اسی طرح اس کو اجارہ پر دینے کا معاملہ بھی صحیح نہیں۔ البتہ کسی کلائنٹ کو اس کی ضرورت کااثاثہ خرید کر اجارہ پر دینے کا وعدہ کیا جاسکتا ہے بشرط یہ کہ اس وعدہ کی پابندی دونوں یا کسی ایک فریق کے لیے لازم نہ ہو۔کیونکہ لازمی وعدہ کا مطلب ہے کہ پٹہ دہندہ نے اثاثہ خریدنے سے پہلے ہی اجارہ کا معاملہ کرلیا ہے جو درست نہیں۔اس لیے کہ خریدوفروخت کے معاملات میں ایسا وعدہ جس کی پابندی ضروری ہو حقیقت میں عقد ہی ہوتا ہے جو مستقبل کی تاریخ کو مؤثر ہورہا ہوتاہے۔ ٭ اگر پٹہ دہندہ/بینک یا مالیاتی ادارہ کسی اثاثے کو خریدنے سے قبل ہی اجارہ پر دینے کا وعدہ کر [1] ۔سنن الترمذی باب ماجاء فی کراھية بيع ما ليس عنده۔