کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 130
میں ایجنٹ کمیشن کا مستحق نہیں ہو گا۔کیونکہ چیز کی مکمل چھان بین اس کی ذمہ داری تھی جو اس نے کماحقہ پوری نہیں کی لہٰذا یہ اجرت کا حق دار بھی نہیں ہو گا، امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جب سامان میں نقص واضح ہونے کی بنا پر بیع ختم کردی جائے اور سامان کا مالک دلال کو دی گئی کمیشن واپس لینا چاہے اور وہ واپس کرنے پر آمادہ نہ ہو تو امام مالک نے جواب دیا: ’’میرے خیال میں کمیشن واپس ہونی چاہیے۔‘‘[1] اسی طرح اگر دوسرے فریق کے انکار کی وجہ سے سودا مکمل نہ ہو سکے تو پھر بھی ایجنٹ کمیشن کا تقاضا نہیں کر سکتا کیونکہ سودا طے کرانا اس کی ذمہ داری تھی جو وہ دوسرے فریق کے رویے کے باعث پوری نہیں کی جا سکی لہٰذا جو فریق اپنی بات پر قائم ہوا ایجنٹ کا اس سے کمیشن کا مطالبہ کرنا قرین انصاف نہیں۔ لیکن اگر ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنے والا اپنی ذاتی وجوہ کی بنا پر خود ہی سودا ختم کرنا چاہتا ہو تو اس صورت میں اس کے ذمے کمیشن کی ادائیگی واجب ہوگی کیونکہ ایجنٹ اپنا کام کر چکا ہے جس کا اسے معاوضہ ملنا چاہیے۔ [1] ۔المدونة عهدة بيع المأمور ببيع السلعة۔