کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 111
مزید یہ کہ نیا گاہک تلاش کرنے کے لیے از سر نو جدو جہد کرنی پڑتی ہے جس پر بعض اوقات اخراجات بھی آتے ہیں اس لیے بیعانہ کی ضبطی کو مطلق مال ناحق قراردینا درست نہیں۔ ٭ عمرو بن شعیب کی سند سے منقول سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت جس میں بیعانہ کی صورت میں خریدو فروخت کی ممانعت آئی ہے محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔یہ روایت مختلف کتب حدیث میں متعدد سندوں سے مروی ہے مگرکوئی سند بھی محدثین کرام کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔چنانچہ علامہ محمد بن اسمائیل الصنعانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "وله طرق لا تخلو عن مقال" ’’اس کی متعدد سندیں ہیں مگر کوئی بھی کلام سے خالی نہیں۔‘‘[1] ٭ چونکہ بیعانہ میں مدت،قیمت اور فروخت کی گئی چیز سمیت سب کچھ معلوم ہوتا ہے نیز سپردگی بھی ممکن ہوتی ہے لہٰذا یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ اس میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔یہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ممکن ہے خریدار بیع رد کردے تو اس قسم کا امکان تو خیار شرط وغیرہمیں بھی موجود ہوتا ہے حالانکہ وہ سب کے نزدیک جائز ہے۔ ٭ اکثر و بیشتر جب تک بیعانہ دینے والا مکمل ادائیگی نہ کردے چیز حسب دستور اصل مالک کی ملکیت ہی رہتی ہے۔لہٰذا مانعین کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یہ اس لیے ناجائز ہے کہ اس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ’’اگر خریدار بیع پر راضی نہ ہواتو چیز واپس فروخت کنندہ کو مل جائے گی۔‘‘کیونکہ چیز تو پہلے ہی مالک کے قبضہ میں ہوتی ہے۔ ٭ زید بن اسلم کی روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ زید بن اسلم رحمہ اللہ تابعی ہیں جو اس روایت کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں جمہورمحدثین کے نزدیک ایسی روایت قابل حجت نہیں ہے۔ ٭ شارحین حدیث کی رائے میں نافع بن عبدالحارث رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدم رضا کی [1] ۔سبل السلام ج 2 ص 349۔