کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 107
يأخذه غيره على أنه إن أخذ السلعة احتسب به من الثمن، وإن لم يأخذها فللبائع أخذه وتملكه، وبيع العربون صحيح، سواء حدد وقتًا لدفع باقي الثمن أو لم يحدد وقتًا" ’’بیعانہ کی بیع جائز ہے۔بیعانہ کی بیع یہ ہے کہ مشتری عقد بیع کی تکمیل کے بعد اس غرض سے کہ یہ چیز کوئی دوسرا نہ خرید لے فروخت کنندہ یا اس کے ایجنٹ کو چیز کی قیمت سے کم کچھ رقم اس شرط پر دے کہ اگر اس نے چیز لے لی تو یہ رقم قیمت میں شمار ہوگی اور اگر نہ لی تو یہ رقم فروخت کنندہ کی ہوگی۔بیعانہ کی بیع صحیح ہے خواہ باقی قیمت کی ادا ئیگی کے لیے وقت کا تعین ہوا ہو یا نہ۔‘‘[1] پہلے گروہ کے دلائل جو حضرات بیعانہ کی بیع کونا جائز سمجھتے ہیں ان کے دلائل یہ ہیں۔ 1۔سودا طےنہ پانے کی صورت بیعانہ کی ضبطی مال ناحق ہے کیونکہ فروخت کنندہ یہ مال بغیر کسی معاوضہ کے حاصل کرتا ہے جس سے قرآن حکیم نے سختی سے منع کیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ’’اے ایمان والو!ایک دوسرے کے اموال نا حق طریقوں سے نہ کھاؤ۔‘‘[2] علامہ ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان ناحق طریقوں سے مال کھانے کی ایک صورت بیعانہ بھی ہے۔[3] 2۔عمروبن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا یعنی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے [1] ۔فتاوي اللجنة الدائمة ج 15 ص 202۔ [2] ۔النساء:29۔ [3] ۔احكام القرآن لابن العربي ج 1 ص 429۔