کتاب: معیشت وتجارت کے اسلامی احکام - صفحہ 101
اختیار حاصل کر کے ڈالر کی قیمت گرنے سے مطمئن ہو گیا ہے۔ اختیارات کی خریدوفروخت کا شرعی حکم مذكوره بالا تفصيلات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں رائج اختیارات اور شریعت کے تصور اختیار کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔اختیار کا شرعی مفہوم تو صرف اتنا ہے کہ بیع باقی رکھنے یا فسخ کرنے میں سے جو صورت بہتر معلوم ہو اس کا انتخاب کر لیااس کی نہ تو کوئی فیس مقرر ہوتی ہے اور نہ ہی یہ حق کسی دوسرے کو فروخت کیا جا سکتا ہے، جبکہ زیر بحث اختیار کسی چیز کو خریدنے یا بیچنے کا محض ایک حق ہے جو نہ تو مال ہے اور نہ ہی کسی چیز کا حق استعمال،نیز یہ ایسا مالی حق بھی نہیں جس کا معاوضہ لیا جا سکے۔لہٰذا اس کی خریدوفروخت حرام ہے۔ مزید یہ کہ اختیارات کا لین دین ایک ایسا عمل ہے جو غرر اور سٹہ بازی جیسی قباحتوں پر مشتمل ہے۔غرر اس طرح کہ اختیار کے استعمال کی نوبت آئیگی یا نہیں؟اس کا علم نہ تو خود اختیار کے خریدارکو ہوتا ہے اور نہ ہی فروخت کنندہ کو۔کیونکہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ خریدار کی توقع کے مطابق قیمتوں میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں۔اگر اس نے خریداری اختیار لیا ہو اور قیمتیں بڑھ جائیں تو وہ بیع کرے گا ورنہ نہیں۔اسی طرح اگر اس نے بیچنے کا اختیار لے رکھا ہو تو صرف قیمت کم ہونے کی صورت میں اختیار دہندہ کو فروخت کرے گا، اضافے کی صورت میں کسی دوسرے کو بیچ دے گا۔چونکہ قیمتوں میں کمی بیشی غیر یقینی امر ہے۔اس لیے بیع کا انعقاد مبہم ہے اور یہی غرر ہے جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ سٹہ بازی اس طرح کہ اس سارے معاملے میں خریدو فروخت کی نیت قطعاً نہیں ہوتی بلکہ نیت صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر فلاں تاریخ تک شیئرز کی قیمت بڑھ گئی تو اختیار دہندہ سے اتنے فیصد اضافہ وصول کر لیا جائے گا۔اور اگر کم ہوگئی تو اس کو اتنے فیصد اضافہ دے دیا جائے گا۔یا اگرقیمتیں کم ہوں گئیں تو اتنے فیصد اضافہ وصول اور اگر بڑھ گئیں تو ادا کر جائے گا۔گویا یہ قسمت