کتاب: لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی - صفحہ 91
مٹادی جاتی ہیں۔‘‘ جب بات ختم کی،تو ارشاد فرمایا: ’’اگر مناب سمجھو،تو عمر بن خطاب کو میرے پاس رہنے دو۔‘‘ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔[1] اس اقتباس سے ہمیں درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں! ۱: حضرت ابوبکر اسامہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ پیدل چلے،جب کہ وہ سوار تھے اور ان کی عمر بیس یا اٹھارہ سال تھی،اور حضرت ابوبکر ساٹھ سال سے تجاوز کرچکے تھے۔ ان کا امتیاز صرف یہی نہ تھا،بلکہ غارِ ثور میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حبیب،وزیر اور آپ کے بعد آپ کے جانشین تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری امت میں افضل ترین شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے اسامہ کے ہمراہ پیدل چلنے اور انھیں سواری پر بدستور رہنے پر اصرار کیا۔جب اسامہ نے یہ مطالبہ کیا تھا،کہ یا آپ بھی سوار ہوجائیں،ورنہ میں نیچے اتر جاؤں گا،تو حضرت ابوبکر نے یہ دونوں تجویزیں مسترد کردی تھیں۔یہ طرزِ عمل اختیار کرنے میں لشکر اسامہ کے لیے یہ پیغام تھا،کہ اسامہ کی امارت کو برضا و رغبت تسلیم کرلیا جائے اور اپنے سینوں سے ہر قسم کی تنگی اور کدورت کو نکال دیا جائے۔ حضرت ابوبکر پیدل چلتے ہوئے گویا کہ لشکر کو زبانِ حال سے مخاطب ہوکر فرما رہے تھے: ’’مسلمانو!ٍدیکھو میں ابوبکر ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہونے کے باوجود اسامہ کے ہمراہ پیدل چل رہا ہوں اور یہ سوار ہیں۔یہ اس کے امیر [1] سورۃ ہود -علیہ السلام- / الآیۃ ۱۱۲۔