کتاب: لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی - صفحہ 14
نے اعتراض کیا،تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’تم اب اسامہ کی امارت کو ہدف ٹھہراتے ہو،اس سے قبل تم اس کے باپ(حضرت زید)کی امارت پر بھی معترض ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی قسم!ٍزید امارت کے مستحق تھے اور میرے نزدیک سب سے زیادہ لائقِ محبت تھے۔ان کے بعد ان کے بیٹے(اسامہ)مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘[1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے باعث لشکرکا جرف [2]میں رکنا: لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی سے دو دن پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے اور بیماری نے شدّت اختیار کرلی،جس کی وجہ سے یہ لشکر جرف کے مقام پر رک گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ طیبہ واپس آگیا۔[3] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا حادثہ پیش آتے ہی حالات بالکل بدل گئے اور جیسا کہ اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر آخرت اختیار فرمایا،تو عرب میں ارتدداد کی لہر دوڑ گئی اور پورے زور کے ساتھ نفاق کا عمل اُبھر آیا۔‘‘[4] [1] صحیح البخاري،کتاب المغازی،باب بعث النبی صلي اللّٰهُ عليه وسلم أسامہ بن زید رضی اللّٰهُ عنہما فی مرضہ الذي توفی فیہ،حدیث نمبر ۴۴۶۹،۸/۱۵۲۔ [2] حرف ’’جیم‘‘ کے پیش اور ’’را‘‘ کے سکون کے ساتھ۔یہ مقام مدینے سے بجانب شام تین میل کے فاصلے پر ہے۔(معجم البلدان ۲/۱۴۹)۔ [3] ملاحظہ ہو:فتح الباري ۸/۱۵۲؛ والسیرۃ النبویہ الصحیحہ ۲/۲۵۲؛ والسیرۃ النبویہ فی ضوء المصادر الأصلیہ ص ۶۸۵۔ [4] البدایۃ والنہایۃ ۳/۳۴۳۔۳۴۴۔