کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 98
میرے حکم کی مخالفت کی اور میری اطاعت کو ترک کیا۔ تم پر یہ مصیبت خود تمہارے اپنے علاوہ کسی اور کی وجہ سے نہیں آئی۔ یہ تمہارے سوا کسی بھی شخص کی بنا پر نہیں۔‘‘ ii: حافظ ابن کثیر رقم طراز ہیں: ’’{قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِکُمْ} أَیْ: بِسَبَبِ عِصْیَانِکُمْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حِیْنَ أَمَرَکُمْ أَنْ لَّا تَبْرَحُوْا مِنْ مَکَانِکُمْ، فَعَصَیْتُمْ یَعْنِيْ بِذٰلِکَ الرُّمَاۃَ‘‘۔[1] [(کہہ دیجیے، وہ تمہاری اپنی جانوں کی جانب سے ہے) یعنی تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے، کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا، کہ اپنی جگہ کو چھوڑنا نہیں، تو تم نے نافرمانی کی۔ اس سے مراد تیر انداز ہیں (جنہیں ٹیلے پر متعیّن کیا گیا تھا)]۔ ۲: امام مسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کُلْ بِیَمِیْنِکَ۔‘‘ [اپنے دائیں (ہاتھ) سے کھاؤ۔] اس نے کہا: ’’لَا أَسْتَطِیْعُ۔‘‘ [میں (اس کی) استطاعت نہیں رکھتا] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا اسْتَطَعْتَ‘‘۔ [تجھے استطاعت نہ رہے]۔ (راوی نے بیان کیا:) ’’اُسے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل سے) صرف تکبّر [1] تفسیر ابن کثیر ۱/۴۵۹۔