کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 96
تَعْرِیْفًا لَّہُمْ بِسُوْئِ عَوَاقِبِ الْمَعْصِیَّۃِ، وَ حُسْنِ عَاقِبَۃِ الطَّاعَۃِ۔‘‘[1] ’’پھر اُنہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے دشمن کے خلاف اُن کی مدد کرنے کے اپنے وعدے کے پورا کرنے کی اُنہیں خبر دی اور وہ وعدے کے سچے ہیں۔ (اُنہیں اِس بات سے بھی آگاہ فرمایا، کہ) یقینا اگر وہ طاعت گزاری پر رہتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے چمٹے رہتے، تو اُن کی مدد جاری رہتی، لیکن انہوں نے فرماں برداری کو چھوڑا اور اپنے مرکز سے ہٹے، تو تابع داری کی بنا پر حاصل ہونے والی حفاظت سے نکل گئے اور نصرتِ (الٰہی) اُن سے جدا ہو گئی۔ اُنہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے سزا، آزمائش، نافرمانی کے بُرے انجام سے آگاہ کرنے اور طاعت گزاری کے اچھے انجام سے باخبر کرنے کی خاطر انہیں دشمنوں سے پھیر دیا۔ (یعنی دشمنوں پر حاصل شدہ غلبہ اور نصرت و فتح سے محروم کر دیا)۔‘‘] امام ابن قیم ہی لکھتے ہیں: ’’فَلَمَّا ذَاقُوْا عَاقِبَۃَ مَعْصِیَتِہِمْ لِلرَّسُوْلِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، وَ تَنَازُعِھُمْ، وَ فَشَلِہِمْ، کَانُوْا بَعْدَ ذٰلِکَ أَشَدَّ حَذَرًا وَ یَقْظَۃً، وَ تَحَرُّزًا مِنْ أَسْبَابِ الْخِذْلَانِ۔‘‘[2] ’’جب انہوں (یعنی حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم ) نے اپنی جانب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی، باہمی جھگڑے اور اپنے پھسلنے کی سزا چکھ لی، تو وہ اُس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم کرنے والی باتوں کے متعلق بہت زیادہ محتاط، بیدار اور بچنے والے تھے۔‘‘ اسی واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر بھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] بدائع التفسیر ۱/۲۴۵۔ [2] زاد المعاد ۳/۲۱۹۔