کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 62
i: حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’أَيْ مَہْمَا أَصَابَکُمْ أَ یُّھَا النَّاسُ مِنَ الْمَصَائِبِ فَإِنَّمَا ھِيَ عَنْ سَیِّئَاتِ تَقَدَّمَتْ لَکُمْ۔ {وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ} أَيْ مِنَ السَّیِّئَاتِ، فَلَا یُجَازِیْکُمْ عَلَیْھَا، بَلْ یَعْفُوْ عَنْھَا۔‘‘[1] [’’اے لوگو! تمہیں جو مصائب بھی پہنچتے ہیں، وہ تمہاری سابقہ بُرائیوں کی وجہ سے ہیں۔ {وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ} یعنی تمہاری زیادہ برائیوں سے درگزر کر دیتے ہیں اور تمہیں اُن کی بنا پر سزا نہیں دیتے۔‘‘] ii: شیخ سعدی نے قلم بند کیا ہے: ’’یُخْبِرُ تَعَالٰی أَنَّہٗ مَا أَصَابَ الْعِبَادَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِیْ أَبْدَانِھِمْ، وَ أَمْوَالِہِمْ، وَ أَوْلَادِہِمْ، وَ فِیْمَا یُحِبُّوْنَ، وَ یَکُوْنُ عَزِیْزًا عَلَیْہِمْ، إِلَّا بِسَبَبِ مَا قَدَّمَتْہُ أَیْدِیْھِمْ مِنَ السَّیِّئَاتِ۔ وَ أَنَّ مَا یَعْفُو اللّٰہُ عَنْہُ أَکْثَرَ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ الْعِبَادَ، وَ لٰکِنْ أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ آگاہ فرما رہے ہیں، کہ بندوں کو ان کے بدنوں، مالوں، اولادوں اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں آنے والی ہر مصیبت اُن کی کرتوتوں کی بنا پر ہوتی ہے اور بلاشبہ جن بُرے اعمال سے اللہ تعالیٰ درگزر فرماتے ہیں، وہ (اُن سے) زیادہ ہیں، (جن کے سبب وہ سزا دیتے ہیں)، کیونکہ یقینا اللہ تعالیٰ بندوں پر (تو) ظلم نہیں کرتے، لیکن وہ (خود) اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔‘‘[2] تین تنبیہات: [1] تفسیر ابن کثیر ۴/۱۲۲۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۴/۷۶۶۔ اور اس میں ہے: ’’تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے، وہ تمہارے ہاتھوں سے کی ہوئی نافرمانیوں کی بنا پر ہے۔‘‘ [2] تفسیر السعدي ص ۷۵۹۔