کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 499
سے فرمائش کرتا ہے، جب وہ اُسے عطا فرما دیتے ہیں، تو رب تعالیٰ کے حق کو دیکھتا (بھی) نہیں، گویا کہ اُس کے ذمے اللہ تعالیٰ کا کوئی حق (سرے سے) ہے، ہی نہیں۔ یہ شیطان کی جانب سے (اس کے طرزِ عمل کو) خوبصورت بنانا ہے، اُس نے اُس کے لیے انتہائی بُری اور قبیح چیز کو آراستہ اور پیراستہ کر دیا۔‘‘] مزید برآں، امام ابن ابی الدنیا نے محمد بن سوقہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’مَرَرْتُ مَعَ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بِالْکُوْفَۃِ عَلٰی قَصْرِ الْحَجَّاجِ، فَقُلْتُ: ’’لَوْ رَأَیْتَ مَا نَزَلَ بِنَا ھَاھُنَا زَمَنَ الْحَجَّاجِ؟‘‘ ’’میں کوفہ میں عون بن عبداللہ کے ساتھ حجاج کے محل کے پاس سے گزرا، تو میں نے کہا: اگر آپ دیکھتے، کہ حجاج کے زمانے میں اس جگہ ہم پر کیا (مصیبتوں کے پہاڑ) گرتے تھے؟‘‘ انہوں (یعنی عون بن عبداللہ) نے (جواب میں) فرمایا: ’’مَرَرْتَ کَأَنَّکَ لَمْ تَدْعُ إِلٰی ضُرٍّ مَّسَّکَ۔ اِرْجِعْ فَاحْمَدِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَ اشْکُرْہُ۔ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلٰی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ}۔‘‘[1]،[2] [’’تم تو ایسے گزر گئے ہو، جیسے کہ تم نے پہنچنے والی تکلیف میں (اللہ تعالیٰ کے حضور) فریاد ہی نہیں کی۔ واپس جا کر (وہاں) اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرو اور اُن کا [1] سورۃ یونس ـ علیہ السلام ـ / جزء من الآیۃ ۱۲۔ [2] کتاب الشکر للّٰہ عزوجل، رقم الروایۃ ۵۵، ص ۹۲۔