کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 482
نجات دی]۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو تعلیم دی جا رہی ہے، کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے، اُنہیں ظالم قوم کی کرتوتوں اور عذاب سے نجات دینے پر، اُن کا شکر کرنے اور اُن کی تعریف بیان کرنے کے لیے یہ (کلمات) کہیں۔‘‘[1] ب: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ أَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّوْرِ وَ ذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ۔ وَ إِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ إِذْ أَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ وَ إِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزٍیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ}[2] [ترجمہ: اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ- علیہ السلام - کو معجزات دے کر بھیجا، یہ کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے روشنی کی طرف نکالیے اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کے ایام (یعنی اُن پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشات کی یاددہانی) کے ساتھ نصیحت کیجیے۔ بلاشبہ اُن (واقعات) میں بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شکر کرنے والے کے لیے یقینا نشانیاں ہیں۔‘‘ اور جب موسیٰ- علیہ السلام - نے اپنی قوم سے کہا: [1] تفسیر السعدي ص ۵۵۱۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۲/۱۱۹، علامہ قرطبی نے لکھا ہے: ’’اِحْمَدُوا اللّٰہَ تَعَالٰی عَلٰی تَخْلِیْصِہٖ إِیَّاکُمْ۔‘‘ [اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہاری خلاصی کروانے پر اُن کی حمد بیان کرو]۔ [2] سورۃ إبراہیم- علیہ السلام - / الآیات ۵-۷۔