کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 404
إِیَّاہٗ فَرَحًا] [1] [غم زدہ کو اس بات کے حکم کا ذکر، کہ وہ اس (غم) کے دُور ہونے اور اُس کی خوشی میں تبدیلی کا سوال کرے]۔ ii: امام ابن سُنِّی: [بَابُ مَا یَقُوْلُ إِذَا أَصَابَہٗ ھَمٌّ أَوْ حُزْنٌ] [2] [غمگین اور دکھی جو کہتا (یعنی پڑھتا) ہے، اس کے متعلق باب]۔ - vii - [اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ … الخ] حضراتِ ائمہ احمد، بخاری، ابو داؤد، ابن حبان اور ابن سُنِّی نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دَعْوَاتُ الْمَکْرُوْبِ[3]،: [اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِيْ إِلٰی نَفْسِيْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَ أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ کُلَّہٗ، لَآ إِلٰہَ إِلَّآ أَنْتَ]۔ [4]،[5] [1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۳/۲۵۳۔ [2] کتاب عمل الیوم واللیلۃ ص ۱۲۲۔ [3] اس دعا کو [دَعْوَات] [دعائیں] کہنے کا سبب یہ ہے، کہ یہ اپنے اندر متعدد معانی سموئے ہوئے ہے۔ وَ اللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ (ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۶/۱۹۰۷؛ مرقاۃ المفاتیح ۵/۳۰۱)۔ [4] المسند، جزء من رقم الحدیث ۲۰۴۳، ۳۴/۷۴۔۷۵؛ والأدب المفرد، جزء من رقم الحدیث ۷۰۲، ص ۲۳۷؛ وسنن أبي داود، کتاب الأدب، باب ما یقول إذا أصبح، جزء من رقم الحدیث ۵۰۷۹، ۱۳/۲۹۴؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الرقآئق، باب الأدعیۃ، رقم الحدیث ۹۷۰، ۳/۲۵۰؛ وکتاب عمل الیوم واللیلۃ، رقم الحدیث ۳۴۲، ص ۱۲۳۔ الفاظ حدیث سنن أبي داود، صیح ابن حبان کے ہیں۔حافظ ہیثمی نے لکھا ہے، کہ اسے (امام) طبرانی نے روایت کیا اور اس کی [سند حسن] ہے۔ شیخ البانی نے اس [حدیث کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۱۰/۱۳۷؛ و صحیح الأدب المفرد ص ۱۸۹؛ و صحیح موارد الظمآن ۲/۴۲۹؛ وصحیح سنن أبي داود ۳/۹۵۹)۔ [5] اس دعا کے بعض حصوں کی شرح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں: (اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ): یعنی میں آپ کے علاوہ کسی اور کی رحمت کی امید نہیں رکھتا۔ (کسی اور کی رحمت کی امید نہ ہونے کا معنٰی جملے میں ترتیب کی تبدیلی (تقدیم و تاخیر) سے پیدا ہوا ہے۔ عام طور پر جملے کی ترتیب [اَللّٰہُمَّ أَرْجُوْ رَحْمَتَکَ] ہوتی ہے، لیکن اس مقام پر [رَحْمَتَکَ] کو پہلے لایا گیا)۔ (طَرْفَۃَ عَیْنٍ): یعنی ایک لمحہ، کیونکہ وہ (یعنی میرا نفس) میرا سب سے بڑا دشمن ہے اور بلاشبہ وہ میری حاجات کو پورا کرنے میں بے بس ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۵/۳۰۱)۔ علامہ طیبی رقم طراز ہیں: (رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ): اس میں مفعول (رَحْمَتَکَ) کو پہلے لایا گیا، تاکہ اختصاص (یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت کی امید کے ہونے کا) فائدہ دے۔ (رَحْمَۃَ) عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہی رحمت کی امید رکھنے کا تقاضا یہ ہے، کہ تمام معاملات انہی کو سونپے جائیں، گویا کہ اُن کے حضور عرض کیا گیا ہے: جب میں نے اپنا (سارا) معاملہ آپ کے سپرد کیا ہے، تو آپ لمحہ بھر کے لیے بھی، اسے میرے نفس کو نہ سونپنا، کیونکہ مجھے تو علم ہی نہیں، کہ میرے معاملے کا سُدھرنا اور برباد ہونا کیسے ہے۔ ہو سکتا ہے، کہ میں کوئی کام اس اعتقاد سے کروں، کہ اس میں میرے معاملے کا سُدھرنا ہے اور اس سے الٹا نقصان ہو۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ جب اپنے نفس سے فارغ ہو چکا اور کسی اور کو سونپنے کی نفی اور اللہ تعالیٰ کی سپرداری میں رہنے کا ارادہ کیا، تو عرض کیا: (وَ أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ) [اور میرے لیے میرے معاملہ کی اصلاح فرما دیجیے] پھر اس کی تاکید (کُلَّہٗ) [تمام) کے ساتھ کی اور اس کے بعد کہا (لَآ إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ) [آپ کے سوا کوئی معبود (یعنی میرے معاملے کی اصلاح کرنے والا) نہیں۔ (ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۶/۱۹۰۶-۱۹۰۷)۔