کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 398
أُعْطِیْتَ مَرَامَ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ۔‘‘[1]
[’’جب تم اپنی (یعنی اپنے لیے) دعا کے سارے وقت کو مجھ پر درود (پڑھنے) میں صرف کرو گے، تو تم دنیا و آخرت کی مراد دئیے جاؤ گے۔‘‘]
دو روایات:
i: امام احمد کی روایت کردہ حدیث میں ہے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِذًا یَکْفِیْکَ اللّٰہُ مَا أَھَمَّکَ مِنْ دُنْیَاکَ وَ آخِرَتِکَ۔‘‘[2]
[’’تب تمہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی تیری ہر پریشان کرنے والی بات سے کفایت کر دیں گے۔‘‘]
ii: امام طبرانی کی روایت کردہ حدیث میں ہے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِذًا یَکْفِیْکَ اللّٰہُ مَا ھَمَّکَ مِنْ أَمْرِ دُنْیَاکَ وَ آخِرَتِکَ۔‘‘[3]
[’’تب اللہ تعالیٰ تیری دنیا و آخرت کے غم میں مبتلا کرنے والی (ہر) بات سے تجھے کفایت کر دیں گے۔‘‘]
خلاصۂ گفتگو یہ ہے، کہ اپنے لیے دعا کرنے کے تمام اوقات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر
[1] تحفۃ الأحوذي ۷/۱۳۰۔
[2] المسند، جزء من الحدیث ۲۱۲۴۲، ۳۵/۱۶۶-۱۶۷۔ حافظ منذری اور حافظ ہیثمی نے اس کی [سند کو جید (یعنی عمدہ)] قرار دیا ہے۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] اور شیخ ارناؤوط اور اُن کے رفقاء نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۱۰/۱۶۰؛ و صحیح الترغیب والترہیب ۲/۲۹۶؛ المسند ۳/۱۶۶)۔
[3] مجمع الزوائد، کتاب الأدعیۃ، باب الصلاۃ علی النبي صلي الله عليه وسلم في الدعآء وغیرہ، ۱۰/۱۶۰۔ حافظ ہیثمی نے لکھا ہے: ’’اسے (امام) طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی [سند حسن] ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۰/۱۶۰)۔