کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 395
’’مَنْ أَکْثَرَ مِنَ الْاِسْتِغْفَارِ جَعَلَ اللّٰہُ لَہٗ مِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا، وَ مِنْ کُلِّ ضِیْقٍ مَخْرَجًا، وَ رَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ۔‘‘[1] [’’جو شخص گناہوں کی معافی کثرت سے طلب کرے، اللہ تعالیٰ اُس کے ہر غم کو دُور کر دیتے ہیں، ہر تنگی سے نکلنے کی صورت پیدا فرما دیتے اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں، جہاں اُس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘] ایک دوسری روایت میں ہے: ’’وَ مَنْ لَزِمَ الْاِسْتِغْفَارَ … الحدیث۔‘‘[2] [’’اور جو شخص استغفار سے چمٹ جائے … الحدیث]۔ v : اپنے تمام اوقاتِ دعا میں درود شریف پڑھتے رہنا امام ترمذی اور امام حاکم نے حضرت ابيّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: میں نے عرض کیا: ’’إِنِّيْ أُکْثِرُ الصَّلَاۃَ عَلَیْکَ، فَکَمْ أَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَاتِيْ؟‘‘ [یا رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم-! بے شک میں آپ پر بہت زیادہ درود پڑھتا ہوں، تو میں اپنے لیے دعا کرنے کے اوقات میں سے کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے (مختص) کر [1] حدیث کی تخریج اس کتاب کے صفحہ … میں ملاحظہ فرمائیے۔ [2] ملاحظہ ہو: سنن أبي داود، تفریع أبواب الوتر، باب في الاستغفار، جزء من الروایۃ ۱۵۱۵، ۴/۲۶۷؛ و سنن ابن ماجہ، أبواب الآداب، باب الاستغفار، جزء من رقم الحدیث ۳۸۶۴، ۲/۳۳۹۔