کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 372
[یعنی اور عبادت گزاروں کی یاد دہانی کے لیے، کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت فرمانا نہیں چھوڑتے]۔ ۲: یونس علیہ السلام کا قصہ: اللہ عزّوجلّ نے ارشاد فرمایا: {وَذَا النُّوْنِ إِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ أَنْ لَّآ إِلٰہَ إِلَّآ أَنْتَ سُبْحٰنَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ}[1] [اورمچھلی والا (یعنی یونس علیہ السلام )، جب وہ ناراض ہو کر چل دیا اور سمجھا، کہ ہم اُس پر سخت گیری نہ کریں گے، تو اُس نے اندھیروں میں پکارا، کہ: ’’آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ پاک ہیں۔ بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔‘‘ پس ہم نے اُس کی دعا قبول کی اور اُسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اِسی طرح نجات دیتے ہیں]۔ آیات کی تفیر میں دو مفسرین کے اقوال: i: امام طبری: {وَ کَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ}: یَقُوْلُ جَلَّ ثَنَاؤُہٗ: ’’کَمَا أَنْجَیْنَا یُوْنُسَ علیہ السلام مِنْ کَرْبِ الْحَبْسِ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ فِيْ الْبَحْرِ، إِذْ دَعَانَا ، کَذٰلِکَ نُنْجِيْ الْمؤْمِنِیْنَ مِنْ کَرْبِہِمْ، إِذَا اسْتَغَاثُوْا بِنَا وَدَعَوْنَا۔‘‘[2]
[1] سورۃ الأنبیآء / الآیتان ۸۷-۸۸۔ [2] تفسیر الطبري ۱۷/۶۵؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۳/۲۱۳۔