کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 367
’’بے شک دعا نازل شدہ (مصیبتوں کے دُور کرنے) میں فائدہ دیتی ہے اور اُن سے (بچاؤ میں بھی نفع دیتی ہے)، جو ابھی نازل نہیں ہوئیں، پس (اے) اللہ تعالیٰ کے بندوں! دعا کو لازم کرو۔‘‘] علّامہ محمد عبدالرحمن مبارک پوری رقم طراز ہیں: ’’(إِنَّ الدُّعَائَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ): أَيْ: مِنْ بَلَآئٍ نَزَلَ، بِالرَّفْعِ إِنْ کَانَ مُعَلَّقًا، وَبِالصَّبْرِ إِنْ کَانَ مُحْکَمًا، فَیَسْہُلُ عَلَیْہِ تَحَمُّلُ مَا نَزَلَ بِہٖ، فَیُصَبِّرُہٗ عَلَیْہِ أَوْ یُرْضِیْہِ بِہٖ،حَتّٰی لَا یَکُوْنَ فِيْ نُزُوْلِہٖ مُتَمَنِّیًا خِلَافَ مَا کَانَ، بَلْ یَتَلَذَّذْ بِالْبَلَآئِ مِمَّا یَتَلَذَّذُ أَھْلُ الدُّنْیَا بِالنَّعْمَائِ۔ (وَ مِمَّا لَمْ یَنْزِلْ): أَيْ: بِأَنْ یَّصْرِفَہٗ عَنْہُ، وَیَدْفَعَہٗ مِنْہُ، أَوْ یُمِدَّہٗ قَبْلَ النُّزُوْلِ بِتَأْیِیْدِ مَنْ یُخَفُّ مَعَہٗ أَعْبَآئَ ذٰلِکَ ، إِذَا نَزَلَ بِہٖ۔ (فَعَلَیْکُمْ عِبَادَ اللّٰہِ بِالدُّعَائِ): أَيْ: إِذَا کَانَ ھٰذَا شَانُ الدُّعَآئِ فَاَلْزِمُوْا یَا عِبَادَ اللّٰہِ! الدُّعَآئَ۔‘‘[1] [’’(إِنَّ الدُّعَآئَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ): اگر وہ (تقدیر) [معلَّق] ہو، تو (دعا کا نفع) اُسے لے جانے کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ اگر وہ [مُحْکَمْ] ہو، تو صبر کی صورت میں (دعا کا نفع ظاہر ہوتا ہے)۔ نازل شدہ مصیبت کا برداشت کرنا اُس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) اُسے اس پر صبر عطا فرما دیتے ہیں اور اُس پر ایسے راضی کر دیتے ہیں، کہ وہ اس کی بجائے کسی دیگر چیز کا متمنی نہیں رہتا، بلکہ وہ تو اُس سے دنیا والوں کے نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی مانند لذّت لیتا ہے۔ [1] تحفۃ الأحوذي ۹/۳۷۴۔