کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 355
’’اَلدَّعْوَۃُ إِلَی الْمُسَابَقَۃِ فِيْ طَلَبِ مَغْفِرَۃِ الذَنبِ وَ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ۔‘‘[1] ’’گناہوں سے بخشش اور جنت میں داخلے کی طلب میں ایک دوسرے سے (دوڑ میں) سبقت لے جانے کی دعوت ہے۔‘‘ شیخ محمود ورّاق کے اشعار: قَدِّمْ لِنَفْسِکَ تَوْبَۃً مَرْجُوَّۃً قَبْلَ الْمَمَاتِ وَقَبْلَ حَبْسِ الْأَلْسُنِ بَادِرْ بِہَا غَلْقَ النَّفُوْسِ فَإِنَّھَا ذُخْرٌ وَغُنْمٌ لِلْمُنِیْبِ الْمُحْسِنِ[2] [موت کے آنے سے پہلے اور زبانوں کے بند ہو جانے سے پیشتر اپنے نفس کی (قبولیت کی) امید والی توبہ پیش کیجیے۔ جانوں کے بند (یعنی ختم) ہونے سے پیشتر اس کے کرنے میں بہت جلدی کرو، کیونکہ وہ (اللہ تعالیٰ کے حضور) رجوع کرنے والے محسن کے لیے ذخیرہ اور غنیمت ہے]۔ علامہ جرجانی کا قول: ’’وَھِيَ (أَيِ التَّوْبَۃُ) وَاجِبَۃٌ عَلَی الْفَوْرِ عِنْدَ عَامَّۃِ الْعُلَمَائِ۔ أَمَّا الْوُجُوْبُ فَلِقَوْلِہٖ تَعَالٰی: {تُوْبُوْا إِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ}،[3]وَأَمَّا الْفَوْرِیَّۃُ فَلَمَّا فِيْ تَأْخِیْرِھَا مِنَ الْإِصْرَارِ الْمُحَرَّمِ۔‘‘[4] [1] أیسر التفاسیر ۵/۲۷۴۔ [2] بحوالہ: تفسیر القرطبي ۵/۹۲۔ [3] سورۃ النور / جزء من الآیۃ ۳۱۔ [4] کتاب التعریفات ص ۹۶۔