کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 330
[ایک شخص نے حسن کے روبرو [قحط سالی] کی شکایت کی]، تو انہوں نے اُسے فرمایا: ’’اِسْتَغْفِرِ اللّٰہَ۔‘‘ [’’اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو۔‘‘] وَ شَکَا آخَرُ إِلَیْہِ الْفَقْرَ، فَقَالَ لَہُ: ’’اِسْتَغْفِرِ اللّٰہَ۔‘‘ [ایک دوسرے شخص نے اُن کے سامنے غربت و افلاس کی شکایت کی، تو انہوں نے اس سے فرمایا: [’’اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو۔‘‘] وَ قَالَ لَہٗ آخَرُ: ’’اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَرْزُقَنِيْ وَلَدًا۔‘‘ فَقَالَ لَہٗ: ’’اِسْتَغْفِرِ اللّٰہَ۔‘‘ [ایک اور شخص نے اُن سے درخواست کی: ’’اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، کہ وہ مجھے لڑکا عطا فرمائیں۔‘‘ تو انہوں نے اُسے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے بخشش طلب کرو۔‘‘] وَ شَکَا إِلَیْہِ آخَرُ جَفَافَ بُسْتَانِہٖ، فَقَالَ لَہٗ: ’’اِسْتَغْفِرِ اللّٰہَ۔‘‘ ایک اور شخص نے اُن کے سامنے اپنے باغ کی خشک سالی کا شکوہ کیا، تو انہوں نے اسے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے معافی کی التجا کرو۔‘‘ فَقُلْنَا لَہٗ فِيْ ذٰلِکَ۔ [(ابن صبیح کہتے ہیں): تو ہم نے اس بارے میں ان کے رُو برو عرض کیا]۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ربیع بن صبیح نے اُن کی خدمت میں عرض کیا: ’’أَتَاکَ رِجَالٌ یَشْکُوْنَ أَنْوَاعًا، فَأَمَرْتَہُمْ کُلَّہُمْ بِالْاِسْتِغْفَارِ۔‘‘[1] [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۴/۱۶۲۔