کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 325
رہے ہیں۔ ہمارے پاس (واپس) پہنچنے تک کچھ بھی نہیں کرنا۔‘‘] حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ’’ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللّٰهِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی مِرْطٍ لِبَعْضِ نِسَائِہِ مُرَحَّلٍ۔ [’’پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ -محترمہ رضی اللہ عنہا - کی نقش دار چادر میں لپٹے ہوئے کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔] فَلَمَّا رَآنِيْ أَدْخَلَنِيْ إِلَی رَحْلِہِ، وَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ الْمِرْطِ، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ، وَإِنَّہُ لَفِیہِ۔‘‘ [پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، تو مجھے اپنے خیمے میں داخل فرما لیا اور چادر کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی (چادر) میں لپٹے لپٹے رکوع اور سجدہ کیا۔] ’’فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبَرْتُہُ الْخَبَرَ۔‘‘[1] [’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے) سلام پھیرا، تو میں نے انہیں (دشمن کی) صورتِ حال سے آگاہ کیا۔‘‘] ہم اس حدیث میں دیکھتے ہیں، کہ مسلمانوں پر شدید خوف، شدید بھوک اور شدید سردی، تینوں ابتلائیں جمع ہو گئیں اور صورتِ حال نہایت ہی سنگین ہو گئی، جیسے کہ باری تعالیٰ نے تصویر کشی فرمائی ہے: {إِذْ جَآئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ إِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔ ہُنَالِکَ [1] المسند، رقم الحدیث ۲۳۳۳۴ باختصار، ۳۸/۳۵۸۔۳۵۹۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء لکھتے ہیں، کہ یہ [حدیث صحیح] ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۳۸/۳۵۹)۔ حدیث کی تفصیلی تخریج کے لیے ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۳۸/۳۵۹۔۳۶۰۔