کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 320
[’’جب بھی انہیں گھبراہٹ آتی، تو وہ نماز کی طرف لپکا کرتے تھے۔‘‘] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انہوں نے نماز ادا کی۔‘‘ (اور اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا: ’’أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَیْرِھِمْ فَلَا، أَوِ الْجُوْعُ فَلَا، وَ لٰکِنَّ الْمَوْتُ۔‘‘ [ان کے علاوہ کوئی دشمن (ان پر غالب ہو)، تو نہیں یا بھوک (سے ہلاک ہوں) تو نہیں، لیکن موت۔] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فَسُلِّطَ عَلَیْہِمُ الْمَوْتُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَمَاتَ مِنْہُمْ سَبْعُوْنَ أَلْفًا، فَہَمْْسِيْ الَّذِيْ تَرَوْنَ أَنِّيْ أَقُوْلُ: ’’اَللّٰہُمَّ یَا رَبِّ! بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔‘‘[1] ’’تو اللہ تعالیٰ نے ان پر تین دن موت مسلّط کر دی، تو ان میں سے ایک دن میں ستر ہزار (آدمی) مر گئے۔ میری سرگوشی، جو تم دیکھتے ہو، بلاشبہ میں (اس میں) کہتا ہوں: ’’اے اللہ! اے میرے رب! میں آپ ہی (کی نصرت و اعانت) کے ساتھ جنگ کرتا ہوں۔ اور آپ ہی کے ساتھ حملہ کرتا ہوں۔ اور مجھ میں اللہ تعالیٰ (کی مدد) کے بغیر نہ کچھ حاصل کرنے کی سکت ہے اور نہ کسی [1] المسند، رقم الحدیث ۱۸۹۳۷، ۳۱/۲۶۷۔۲۶۸۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اس کی [سند کو صحیح مسلم کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۳۱/۲۶۸)۔